وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جاری

کراچی کواضافی پانی دینے اور بلوچستان کے توانائی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر ستمبر 14:11

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جاری
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 ستمبر۔2018ء) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جاری ہے.وزیر اعظم ہاﺅس اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے علاوہ کونسل کے دیگر اراکین بھی شریک ہیں. اجلاس میں کراچی کو 1200 کیوسک اضافی پانی دینے پر غور کیا جائے گا اور بلوچستان کے توانائی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا.

اجلاس میں پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال کو پانی فراہم کرنے پر غور ہوگا، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے معاملات پر مشاورت ہوگی. اجلاس میں پیٹرولیم پالیسی 2012 ءمیں ترمیم پر بھی تبادلہ خیال ہوگا جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات کا جائزہ بھی لیا جائے گا. ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جارہا ہے، جس میں قومی صفائی مہم کی سمری شامل ہے، اس کے علاوہ ٹریکٹر بنانے والی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے سیکنڈ ہینڈ ٹریکٹر درآمد کرنے، ایل این جی کی درآمد، ’پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ای او بی آئی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جاری ہے.

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کایہ پہلا اجلاس ہے. اجلاس میں مشترکہ مفادات کے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں اور ان پرعملدرآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا. قبل ازیںلاہور میں سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیورو کریسی پردباواوررولز میں نرمی نے نظام کو تباہ کیا ماضی میں سب حکومتوں نے بہتر کردار ادا نہیں کیا.

وزیراعظم نے بیوروکریسی کوگائیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران اب ہر سیاسی دباﺅ سے آزاد ہوں گے، اس لئے افسران میرٹ پرچلیں ، لوگوں کوانصاف دیں اور فرائض پوری ایمانداری سے انجام دیں. انہوں نے کہا کہ کچھ افسران احتجاج کیلئے ضابطے کے برخلاف عوام میں گئے، آئندہ ایسا رویہ برداشت نہیں کیا جائےگا.عمران خان نے کہا کہ گورننس کوسیاسی بنانے سے نقصان ہوا، قانون میں نرمی پاکستان میں ہی دیکھی،ماضی کی سب حکومتوں نے نظام کوتباہ کیا.

عمران خان نے کہا کہ سرکاری ملازمین بھی سیاست کا حصہ نہ بنیں، انہوں نے پاک پتن تبادلہ کیس کا حوالہ دیئے بغیرکہا کہ کچھ افسران ضابطے کےخلاف پبلک میں گئے، ایسا رویہ بالکل برداشت نہیں کیاجائےگا. عمران خان نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ،سنگاپوراورملائشیا نے گڈ گورننس اپنا کرترقی کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب اور یواے ای امداد کیلئے نہیں بلکہ سرمایہ کاری لانے گئے تھے.