سپریم کورٹ نے ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

پیر ستمبر 15:04

سپریم کورٹ نے ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت کے کیس کا فیصلہ محفوظ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ نے ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہرت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالتی معاون کی جانب سے بتایا گیا کہ 2002 سے نادرا نے کسی دوہری شہریت یافتہ کی شہریت منسوخ نہیں کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دہری شہریت رکھنے والوں پر کچھ ممالک میں سرکاری ملازمت پر پابندی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بہت کم ممالک ہیں جہاں دوہری شہریت یافتہ پر سرکاری ملازمت پر پابندی ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ افواج پاکستان نے تحریری جواب میں کہا کہ دوہری شہریت کا حامل شخص بھرتی نہیں ہو سکتا، دوہری شہریت سے وفاداری تقسیم ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور استاد کی دوہری شہریت پر کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے ،ْگردے کے ماہر ڈاکٹرز اور ٹیچرز کی دوہری شہریت ہو تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کو دھوکہ دے کر گئے اور باہر جا کر جائیدادیں بنائیں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، کچھ سرکاری افسران پاکستان سے ایک سال کی چھٹی لے کر گئے پھر بیرون ملک جا کر ملازمت کی، اگر پاکستان نے سرکاری ملازم کو نکالا تو سروس ٹربیونل چلے جاتے ہیں، ملک کی بدنامی کا باعث بننے والوں کو معاف نہیں کریں گے جبکہ بیرون ملک ملازمت کرنے والوں کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دوہری شہریت والوں کی 3 اقسام ہیں، ایک یہ کہ والدین پاکستانی تھے بعد میں غیر ملکی شہریت لی، کچھ لوگ دوہری شہریت رکھتے تھے اور پاکستان مین سرکاری ملازم تھے، کچھ لوگوں نے دوران ملازمت دہری شہریت لی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جو سفارشات آئی ہیں وہ پارلیمنٹ کو بھیجیں گے۔انہوںنے کہا کہ ایک ڈی آئی جی ڈوگر صاحب تھے انہوں نے باہر جاکر کینڈین خاتون سے شادی کی، دنیا کے ساتھ مالی معاملات پر بات کرنے والے سیکریٹری خزانہ کو منقسم وفاداری کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عدالتی معاون نے کہا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے چیئرمین اوگرا کیس میں دوہری شہریت پر طریقہ کار وضع کیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جواد صاحب کا سوچنا درست ہے لیکن قانون سازی کے بغیر عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین نے کہا کہ بیرون ممالک سے آکر ٹیچرز کے پڑھانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، دروازہ بند کر دیا گیا تو مسئلہ ہو گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کوئی دروازہ بند نہیں کر رہے، چاہتے ہیں اچھی درس گاہوں سے فارغ التحصیل استاد بیرون ممالک سے آکر یہاں پڑھائیں، عام سی یونیورسٹی سے پڑھ کر لوگ یہاں پڑھانے نہ آئیں۔عدالت نے ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کوئی پالیسی دے رہے ہیں نہ فیصلہ دے رہے ہیں اور نہ ہی قانون سازی کر رہے ہیں ،ْفیصلے میں سفارشات دیں گے۔