کراچی،تھانہ پاک کالونی کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں بیچنے میں ملوث نکلا

پیر ستمبر 15:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) پولیس کی نگرانی میں موجود کیس پراپرٹی بھی محفوظ نہیں، تھانہ پاک کالونی سے کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاک کالونی کا تھانہ کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں بیچنے میں ملوث نکلا، سی آئی نے تحقیقات شروع کر دیں، تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔

اینٹی کار لفٹنگ سیل نے پاک کالونی میں ایک گودام پر چھاپا مار کر کیس پراپرٹی کی 100 موٹر سائیکلیں برآمد کیں، گودام کا مالک بھی گرفتار کر لیا گیا۔موٹر سائیکلوں کے پرزے خریدنے والے کباڑیے نے بتایا کہ وحید نامی شخص کو سامان پولیس اہل کار نے بیچا۔موٹر سائیکلوں کی چوری کا مقدمہ اے سی ایل سی تھانے میں درج کر دیا گیا۔ گودام کے مالک نے بتایا کہ وحید نامی شخص تھانہ پاک کالونی سے موٹر سائیکلیں لا کر بیچتا تھا۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی سی آئی اے نے ایس ایچ او پاک کالونی کو معطل کر کے انکوائری شروع کر دی، انھوں نے کہا کہ معطل ایس ایچ او اور اہل کاروں کو شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔ڈی آئی جی امین یوسف کے مطابق کوئی بھی اہل کار یا افسر کیس میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ چوری ہونے والی 53 موٹر سائیکلوں کے ریکارڈ مل چکے ہیں۔ڈی آئی جی نے کہا کہ چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمدگی کے بعد تول کر بیچی گئیں، موٹر سائیکلوں کے پرزے خریدنے والا کباڑیا بھی گرفتار ہو چکا ہے۔امین یوسف نے کہاکہ کباڑیے نے بتایا ہے کہ اسے سامان وحید نے بیچا، کباڑیے نے مزید بتایا کہ وحید کو سامان پولیس اہل کار نے بیچا، وحید نے 9 لاکھ میں اسپئر پارٹس خریدے۔

متعلقہ عنوان :