چیئرمین فرینڈز آف کوٹلی سرجن شمس محی الدین نے سات مطالبات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے 24 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دیدی

پیر ستمبر 15:00

کوٹلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) چیئرمین فرینڈز آف کوٹلی سرجن شمس محی الدین نے سات مطالبات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے 24 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے ۔ چالیس کروڑ کی گریٹر واٹر سکیم میں کرپشن کی انکوائیری کرکے ذمہ دار عناصر کو سزا دی جائے ۔تمام کرش مشینوںکو آبادی سے باہر منتقل کیا جائے ۔لووڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کا مسئلہ حل کیا جائے ۔

کوٹلی اندرون شہر پانی کی سپلائی بحال کی جائے ۔ گلپور ہائیڈروپراجیکٹ کی بجلی کوٹلی کے لئے مختص کی جائے۔ آزاد کشمیر میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ قائم کیا جائے ۔ کشمیر بنک کو شیڈولڈ بنکوں میں شامل کیا جائے ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نوٹس لیں ۔ اصلاح احوال نہ ہوئی تو 24 اکتوبر سے احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے ۔

(جاری ہے)

احتجاج میں دیگر جماعتوں کو بھی شریک کیا جائے گا ۔ رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے ۔وہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کوٹلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راجہ بنارس خان ، جنرل سیکریٹری ملک شاہنواز زراعت ، شفقت گیلانی صدر پی ڈی پی ، قاسم بٹ اور دیگر موجود تھے ۔ سرجن شمس محی الدین نے بتایا کہ گریٹر واٹر سپلائی سکیم چالیس کروڑ کی خطیر رقم سے جولائی 2010 میں شروع ہو کر جولائی 2012 میں مکمل ہونا تھی ۔

پہلا کنٹریکٹ نشان کمپنی کے ساتھ کیا گیا ، نامعلوم وجوہات کی بنا ہ پر یہ کنٹریکٹ تبدیل کرکے سیون سٹار کمپنی کو دے دیا گیا ۔ جب ٹینڈر ہوئے تو پی سی ون میں شامل جی آئی پائپ کو ایم ایس پائپ سے تبدیل کیا گیا جو کہ واٹر سپلائی کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اس ناقص پائپ کی شکائت پر اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری عابد علی نے ذمہ دار آفیسران کی ٹیم کی ہمراہی میں معائنہ و انکوائیری کر کے باقاعدہ رپورٹ جاری کی کہ پائپ ناقص اور ناقابل استعمال ہے ۔

منصوبہ پر کام بند کروا دیا گیا ۔ جب کہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے کنٹریکٹر کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دیا ۔ لیکن نہ ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ایکشن ہوا بلکہ کچھ ہی عرصہ بعددوبارہ کام شروع کر دیا گیا اور وہی ناقص پائپ ڈال دیا گیا ۔ کنواں جات کی تعمیر بھی ناقص ہوئی جس کے باعث کنواں جات میں پانی نہ ہونے کے برابر ہے ۔

چالیس کروڑ خرچ ہو گے اور منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ ۔اس منصوبے کی ناکامی اور اس میں کرپشن کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے ۔ دریائے پونچھ پر لگی سات کرش مشینیں مقامی آبادی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں ۔ ان علاقوں میں دمہ الرجی ، ناک کان گلے کے امراض اور پھیپھڑوں کا کینسر عام ہے ۔ ہماری تحریک پر کچھ مشینیں بند ہیں ۔ لیکن فوج سے منسوب کی گئی کرش مشینیں ابھی تک فعال ہیں ۔

ان تمام مشینوں کو آبادی سے باہر منتقل کیا جائے ۔ کوٹلی شہر میں لووڈ شیڈنگ اور وولٹیج کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ کوٹلی میں گلپور کے مقام پر پن بجلی کا منصوبہ بن رہا ہے ۔ یہ منصوبہ کوٹلی کے لئے مختص کر دیا جائے ۔ پہلے کوٹلی کی ضرورت پوری کی جائے ۔ کوٹلی گنجان محلوں میں جہاں دریا کا آلودہ پانی سپلائی ہو رہا تھا وہ بھی بند کر دیا گیا ہے ۔

شہریوں کو پانی دیں تاکہ وہ دیگر ضرورتیں پوری کر سکیں ۔ کوٹلی شہر میں پانی کی سپلائی بہتر بنائی جائے ۔ آزاد کشمیر کے لاکھوں شہری بیرون مقیم ہیں۔ صرف برطانیہ میں تعداد دس لاکھ ہے ۔ انھیں آزاد کشمیر میں ائیرپورٹ کی ضرورت ہے ۔ وہ کروڑوں کا زر مبادلہ ملک میں بھیج رہے ہیں ۔ کشمیر بنک کو شیڈولڈ بنکوں میں شامل کیا جائے تاکہ وہ کشمیر بنک کے ذریعے رقم ٹرانسفر کر سکیں ۔ انھوںنے بتایا کہ 24 اکتوبر تک ہمارے مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو ہم احتجاجی تحریک چلائیں گے ۔ احتجاج میں دیگر جماعتوں کو بھی شامل کیا جائیگا ۔ اس ضمن میں دیگر جماعتوں اور این جی اوز کے نمائیندگان رابطے میں ہیں ۔ پبلک کو سڑکوں پر لانے کے لئے عوام رابطہ مہم جاری ہے ۔