شہباز شریف کا وفاقی حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی کے معاملے میں حمایت دینے کا اعلان

ہمارے دور حکومت میں ٹیکسوں کی وصولی 3.9 کھرب روپے تک پہنچ گئی تھی، اب اسد عمر کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصول 8 کھرب روپے تک لے کر جائیں گے، ہم خوش آیند قرار دیتےہوئےپوری حمایت کریں گے: قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب

muhammad ali محمد علی پیر ستمبر 19:08

شہباز شریف کا وفاقی حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی کے معاملے ..
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24 ستمبر 2018ء) قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا وفاقی حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی کے معاملے میں حمایت دینے کا اعلان، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں ٹیکسوں کی وصولی 3.9 کھرب روپے تک پہنچ گئی تھی، اب اسد عمر کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصول 8 کھرب روپے تک لے کر جائیں گے، ہم خوش آیند قرار دیتےہوئے پوری حمایت کریں گے۔

انہوں نے آج قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشتگردی اور بجلی کے لوڈشیڈنگ کے چیلنجز کوختم کیا اور ان تمام منصوبوں کومکمل کروایا جن سے معاشی ترقی جڑی ہوتی ہے۔ زراعت کیلئے مسلم لیگ ن کی حکومت نے اربوں روپے سبسڈی پربجلی مہیا کی گئی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں کوبلاسود قرضے دیے گئے اور سبسڈی پرزرعی ادویات فراہم کی گئیں۔

(جاری ہے)

تعلیم وصحت، امن وامان اور فرانزک لیب یا سیف سٹی دیگر منصوبوں پرہمیں فخر ہے کہ ہم نے نوازشریف کی لیڈرشپ میں ملک وقوم کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں 2 رائے نہیں کہ حکومت عوام کے ووٹوں کی نہیں دھاندلی کی پیداوار ہے۔عام انتخابات میں تبدیلی والوں نے نعرے لگائے۔ جوش خطابت میں بڑے بڑے سبز باغ دکھائے گئے ، وعدے بھی کیے لیکن جن لوگوں نے پی ٹی آئی کوووٹ دیے وہ بھی آج واویلا کررہے ہیں۔

نئے پاکستان کی نوید سنانے والے اور میرٹ کواسٹیبلش کرنے کا نعرہ لگانے والے، وعدہ کیا گیا تھا کہ بہترین ٹیم میدان میں لیکر آئیں گے ۔لیکن آج امپورٹڈ ایڈوائز ر ہرجگہ نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول نہ لینے اور سادگی کی دھول آنکھوں میں جھونکی گئی۔امریکی وزیرخارجہ سے گفتگو کے معاملے پرغلط بیانی کی گئی ۔چین کے وزیرخارجہ کوسرآنکھوں پربٹھایا جاتا بلکہ انہیں انتہائی بے رخی سے استقبال کیا گیا۔

میں پوچھتا ہوں کہ ضرورت تھی چین سے دشمنی لینے کی؟ چین نے جنگوں میں ہمارا ساتھ دیا۔ سی پیک کے حوالے سے جس طرح کنفیوژن پیدا کی ہے۔ بیرونی دنیا میں حکومتی لوگوں نے جس طرح سی پیک کیلئے باتیں کیں۔اس طرح کا نئی حکومت کورویہ زیب نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 50 ارب ڈالر کا منصوبہ جس میں 30 ارب ڈالر کے صرف بجلی کے منصوبے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بہت سی باتیں بنائی گئیں۔سی پیک کیلئے حکومتی بیانات مشکوک ہیں۔غلط باتوں سے سی پیک کوٹارگٹ کرنے کی کوشش کرنے کی گئی۔سی پیک پاکستان کی ترقی کاایک عظیم منصوبہ ہے۔ پاکستانی عوام سی پیک منصوبے کوکہیں نہیں جانے دے گی۔ شہبازشریف نے کہا کہ برسوں مہنگائی کا رونا رویا گیا لیکن منی بجٹ میں؟ اسد عمر سے توقع نہیں تھی کہ یہ اس طرح کا عوام دشمن بجٹ لے کرآئیں گے؟ عوام کیلئے گیس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔

جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں ایک دھیلہ گیس کی قیمت نہیں بڑھائی۔ ہم نے کسانوں کواربوں روپے کی سبسڈی مہیا کرکے کھاد سستی دی۔ اب گیس کی قیمت بڑھا کرمہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ گیس کی قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت خوش قسمت ہے کہ ان کوکوئی بحران ورثے میں نہیں ملا ہے۔ اس کا کریڈٹ نوازشریف کی قائدانہ صلاحیتوں کوجاتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرتی ہے تو ہم اس معاملے میں ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔