وزیراعظم بھارت سے مذاکرات اور گوادر کو سٹی آف آئل بنانے کے حوالے سے ایوان بالا کو اعتماد میں لیں، رضا ربانی

پورے ہائوس کی طرف سے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی مذمت کرتا ہوں، پاکستان کی افواج اور عوام اس گیدڑ بھبکیوں میں آنے والے نہیں، کچھ طاقتیں بھارت کو خطے میں تھانیدار بنانے کے خواب دیکھ رہی ہیں مگر ہم اسے علاقے کا پولیس مین نہیں بننے دیں گے، سینیٹ میں اظہار خیال

پیر ستمبر 22:12

وزیراعظم بھارت سے مذاکرات اور گوادر کو سٹی آف آئل بنانے کے حوالے سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم ایوان بالا میں آ کر بھارت سے مذاکرات اور گوادر کو سٹی آف آئل بنانے کے حوالے سے اعتماد میں لیں۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر رضا ربانی نے عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں دو اہم واقعات ہوئے ہیں۔

ایک بھارت سے مذاکرات کی بات اور اس کے بعد بھارت کا انکار اور پھر بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کا بیان آیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پورے ہائوس کی طرف سے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی مذمت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی افواج اور عوام اس گیدڑ بھبکیوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے پہلے بھی ہندوستان کو آزمایا ہے، گو کہ ہم خطے میں امن کی بات کرتے ہیں لیکن اگر آج ہندوستان یہ چاہتا ہے اور ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کے سامنے کھڑی ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے اس دن سے ایک ہی بات سننے میں آ رہی ہے کہ بھارت سے مذاکرات ہونے چاہئیں، مذاکرات سے انکار نہیں لیکن اس وقت ہندوستان جن حالات میں ہے اور وہ تمام انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے بچوں اور عوام پر تشدد کر رہا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے مبارکباد کا خط لکھا جو رسمی چیز ہے۔

اس کے جواب میں جو خط گیا اس میں مذاکرات کی بات کی گئی اور کہا گیا کہ، بشمول دہشت گردی، ہم تمام ایشوز پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بھارتی الزامات کے جواب میں ہمیں بھارت کو ایسی پیشکش نہیں کرنی چاہئے تھی کہ ہم دہشت گردی پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بیان کی تردید آئی لیکن یہ کہا گیا کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان شائع کیا گیا۔

کسی اور ملک کے ذریعے گوادر میں سٹی آف آئل بنانے کی بات کی گئی، کیا ہم اپنے آپ کو ری الائن کرنا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہے تو اس کی جگہ پارلیمان ہے، پارلیمان میں اس پر بحث کی جائے، بھارت کو خطے میں ایک رول دیا گیا ہے، کچھ طاقتیں اسے خطے میں تھانیدار بنانے کے خواب دیکھ رہی ہیں، ہم اسے علاقے کا پولیس مین نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایوان بالا میں آ کر ارکان کو سنیں اور پھر ان کا جواب دیں، ہو سکتا ہے جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ مفروضے پر مبنی ہوں۔