بینکنگ کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی پیشی

آصف زرداری اور فریال تالپور حاضری لگا کر عدالت سے روانہ ہو گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل ستمبر 10:41

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : کراچی کی بینکنگ کورٹ میں منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق آج سماعت کے دوران عدالت میں ضمانت پر رہا سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پیش ہوئے۔ سابق صدر آصف زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور ان کے تینوں بیٹوں سمیت دیگر کی ضمانت پر رہائی کا آج آخری روز تھا ، تمام ملزمان بینکنگ کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔

بینکنگ کورٹ کراچی میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے درخواست پر کارروائی کی مخالفت کی۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اومنی گروپ کے اکاؤنٹس سے متعلق کسی بھی قسم کا فیصلہ دینے سے روکا ہے جس پر انور مجید کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرڈر جاری کرنے سے منع کیا ہے دلائل دینے سے نہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر بینکنگ کورٹ کے جج نے کہا کہ پہلے سپریم کورٹ کا حکم نامہ پڑھ لیں اس کے بعد فیصلہ کریں گے۔

انور مجید کے وکیل نے استدعا کی کہ ایف آئی اے کو حتمی چالان پیش کرنے کا کہا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے پاس ہے اس لیے ہم ایف آئی اے کو چالان کے لیے ٹائم فریم کا کہہ سکتے ہیں۔ عدالت نے 5 مفرور ملزمان کے ایک مرتبہ پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت 16 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ مفرور ملزمان میں حسین لوتھا، عارف خان، اعظم وزیر خان سمیت دیگر شامل ہیں۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔صحافی کے سوال کے جواب میں منی بجٹ کے معاملے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ منی بجٹ نہیں بلکہ منی ڈرامہ پیش کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جعلی اکاؤنٹس از خود نوٹس کیس سپریم کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے اور گذشتہ روز اعلیٰ عدالت نے ماتحت عدالتوں کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا جائے۔

گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے پیشرفت رپورٹ میں بتایا کہ 29 اکاؤنٹس کے بارے میں تفتیش جاری ہے، 15 اکاؤنٹس ایف آئی اے نے مزید پتہ لگائے تھے۔ 33 مزید اکاؤنٹ ہم نے دریافت کیے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کن لوگوں نے پیسے جمع کروائے اور نکلوائے ؟ یہ چوری کا پیسہ ہے، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی کوشش کی گئی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 334 افراد مختلف ترسیلات زر میں ملوث ہیں، 47 کمپنیاں اومنی گروپ کی ہیں، گھوٹکی شوگر مل سمیت 16 شوگر ملز بھی اومنی گروپ کی ہیں۔ گھوٹکی مل سے ملنے والے ریکارڈ کا تجزیہ جاری ہے۔