رینجرز کا دستہ پرویز مشرف کا ائیرپورٹ پر استقبال کرے گا، چیف جسٹس

این آر او کیس، چیف جسٹس نے چک شہزاد میں سابق صدر کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 11:22

رینجرز کا دستہ پرویز مشرف کا ائیرپورٹ پر استقبال کرے گا، چیف جسٹس
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25 ستمبر 2018ء) سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چک شہزاد میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے کہا مشرف پاکستان آئیں گے تو ان کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔پرویز مشرف کہیں بھی اترے انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔رینجرز کا دستہ پرویز مشرف کا ائیرپورٹ پر استقبال کرے گا۔

پرویز مشرف پاکستان میں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کروا سکتے ہیں۔پرویز مشرف آکر اپنا بیان قلمبند کروائیں اس کے بعد جب بری ہو جائیں تو جہاں چاہیں گھومیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کی آنے سے پہلے اس کے گھر کی صفائی کا جائزہ لیا جائے۔چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو ہدایت کی کہ آپ پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کی صفائی کا جائزہ لیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نکالا۔

سپریم کورٹ نے نہ تو ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا اور نہ ہی نکالا۔پرویز مشرف پاکستان آئیں گے تو ان سے اثاثوں سے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کا واپسی کا شیڈول کیا ہے؟۔سفری دستاویزات مل جائیں گی۔تو ان کے وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف بزدل نہیں ہیں۔سیکورٹی فراہم کریں گے تو پرویز مشرف پاکستان آئیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کو بریگیڈ کی سیکورٹی بھی چاہئیے تو مل جائے گی۔وکیل اختر شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کی تمام جائیدادیں ضبط کر لیں گئی وہ عارضی طور پر دبئی میں مقیم ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان آئیں تمام دروازے کھول دیں گے۔اگر وہ ہفتے کے روز پیش ہوں تو ہم اس دن بھی عدالت لگا لیں گے۔چیف جسٹس نے کہا پرویز مشرف بیرون ملک جا کر ڈانس کرتے ہیں۔ریڑھ کی ہڈیوں کا بہانہ کر کے یہاں سے نکل گئے ہیں۔پرویز مشرف عدالتوں پر اعتماد کریں۔انہیں پاکستان میں مستقل رہائش دیں گے۔وکیل نے پرویز مشرف سے مشاورت کے لیے ایک ہفتے کا مانگا جس پر چیف جسٹس نے وکیل کو ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔