میر واعظ فورم کی طرف سے جیلوں میں نظربند حریت رہنمائوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

تہاڑ ، کوٹ بھلوال ، کٹھوعہ اور اودھمپور جیلوںمیں کشمیری نظربندوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے

منگل ستمبر 11:50

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری نظربندوں کے ساتھ جیل حکام کا ناروا امتیازی سلوک انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کیلئے چشم کشا اور لمحہ فکریہ ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہاکہ نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑجیل ، جموں کی کوٹ بھلوال ، کٹھوعہ اور اودھمپور جیلوں میں نظربند کشمیریوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تہاڑ جیل میں نظر بند حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ،الطاف احمدشاہ ، ایاز اکبر، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار کے علاوہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے ساتھ جیل حکام کا غیر انسانی سلوک حد درجہ افسوسناک اور تشویشناک ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے حریت رہنمائوں کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت غیر قانونی طورپر نظر بند کر رکھا ہے اور انکی نظربندی کو طول دیا جارہا ہے ۔ترجمان نے کہاکہ 13ستمبر کو دلی ہائی کورٹ کے دو جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے واضح کیاتھا کہ این آئی اے کشمیری نظربندوں کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ہے لہذا انکے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے ۔

فورم کے ترجمان نے ترال کے علاقے آری پل اور ٹنگڈار میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری نوجوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری شہداء کی بے مثال قربانیاں تحریک آزادی کا اثاثہ ہیں اور انہیں ہرگز رائیگاںنہیں جانے دیا جائیگا۔انہوںنے آری پل ترال میںبھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ میں متعدد نوجوانوں کے زخمی ہونے کی بھی شدید مذمت کی۔