سابق وزیراعظم نواز شریف کو قریبی رفقاؤں نے مشورے دینا شروع کر دئے

اداروں کی بجائے عمران خان کو ٹارگٹ کریں، عمران خان کو ہی ہدف تنقید بنائیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل ستمبر 12:06

سابق وزیراعظم نواز شریف کو قریبی رفقاؤں نے مشورے دینا شروع کر دئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف نے اڈیالہ جیل سے باہر آتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی معاملات کو مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی آئندہ حکمت عملی پر سابق وزیراعظم نے قریبی ساتھیوں سے بھی مشاورت شروع کر دی ہے جس میں مسلم لیگ ن کی آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے اڈیالہ جیل سے باہر آنے کے بعد بلا شُبہ ان کے بیانیے کو مزید تقویت ملی ہے اور ان کے قریبی ساتھیوں نے بھی ریاست مخالف ان کے بیانیے کی حمایت کی لیکن اب ان کے قریبی رفقا نے انہیں اپنے بیانیے میں تبدیلی لانے کے لیے قائل کرنا شروع کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ آپ ریاستی اداروں کے بارے میں اپنا موقف اور بیانیہ تبدیل کرکے قومی اداروں کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کی کارکاکردگی اور عمران خان کوتنقید کا نشانہ بنائیں اور انہیں ہی ہدف تنقید رکھیں۔

نواز شریف کے قریبی رفقا نے انہیں اسی نئے بیانیے کے تحت اکتوبر میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی مہم چلانے کی بھی تجویز دی ہے ۔ آج کل نواز شریف رائے ونڈ پر موجود جاتی امرا میں اپنے قریبی عزیزوں اور دوست احباب سے ملاقاتیں کررہے ہیں جن میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف،سابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور سرداریاز بھی شامل ہیں۔

ان ملاقاتوں میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بھی کی جارہی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی حلقوں نےان سے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے بعد سے اب تک کارکردگی متاثر کُن نہیں ،لہٰذا مسلم لیگ ن پاکستان تحریک انصاف کے پہلے 100 روزہ ایجنڈے کو ٹارگٹ کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔

نوازشریف کو تجویز دی گئی کہ وہ خود ضمنی الیکشن کی مہم کے لیے باہرنکلیں تاکہ پارٹی اُمیدواروں کی جیت یقینی بنائی جاسکے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہےکہ اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کم ازکم پنجاب کی حد تک نوازشریف الیکشن مہم چلائیں۔یہی نہیں بلکہ سابق وزیراعظم نوازشریف سیاستدانوں سے ہونے والی ملاقاتوں میں پارٹی پالیسی کے بارے میں بھی مشاورت کرنے میں مصروف ہیں ۔

قریبی ساتھیوں نے نوازشریف سے کہا کہ اب ٹکراؤ کی سیاست ترک کرکے مفاہمتی لائحہ عمل اختیار کریں۔ لیکن نواز شریف جارحانہ پالیسی کو لے کر چلنے پر قائل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیانیے پر کسی طور بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتے جس کےبعد اب قومی اداروں کو چھوڑ کرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کو ہدف تنقید بنانے پر غور کیا جا رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن ریاستی اداروں کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہی ٹارگٹ کرے گی جس سے نواز شریف کے بیانیے کو مزید تقویت ملے گی اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا مسلم لیگ ن کا ہدف بھی پورا ہو جائے گا۔