عمران خان اور پاک فوج کا ایک پیج پر ہونا بھارت کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے

وزیر اعظم عمران خان کو حکومت کرنے میں دو سال تک کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، بھارتی ماہر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 13:39

عمران خان اور پاک فوج کا ایک پیج پر ہونا بھارت کے لیے دو دھاری تلوار ..
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کا ایک ہی کتاب کے ایک صفحے پر ہونا دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔۔پاکستان میں تعیناتی کے بعد بھارتی دارالحکومت کے کیبنٹ سیکرٹریٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے بھارتی ماہر اور مصنف تلک دیوا شیر نے انڈین ایکسپریس کے فورم میں گفتگو کرتے ہوئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

بھارتی ماہر سے سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے وزیراعظم چنا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ 2002ء میں عمران خان پرویز مشرف کی حکومت میں شامل ہونے کا سوچ رہے تھے۔دونوں کے درمیان چند خفیہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔تاہم عمران خان یہ سوچ کر پیچھے ہٹ گئے کہ مشرف کی کابینہ بد عنوانیوں سے بھری پڑی ہے۔

(جاری ہے)

پرویز مشرف نے عمران خان کو دھمکایا کہ حکومت میں شامل نہ ہونے کی صورت میں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

جس کے نتیجے میں اگلے انتخابات میں عمران خان کو ایک نشست ملی۔تب عمران خان کو اندازہ ہوا کہ وزیراعظم بننے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ضروری ہے۔بھارتی امیدوار نے مزید کہا کہ پاک فوج نواز شریف کو اقتدار میں دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور آصف زرداری نے فوج کے خلاف سخت بیانات دیے تھے ان کی جماعت کی پنجاب میں موجودگی بھی نہیں تھی۔

اس صورتحال میں عمران خان ہی واحد آپشن تھے۔جب کہ نواز شریف کی مخالفت ان کا یک نکاتی ایجنڈا بھی تھا۔اور فتخ کا بندوبست اس طرح سے کیا گیا کہ آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں ملا کر 342 کے ایوان میں ان کو معمولی برتری حاصل ہو گئی۔کم از کم عمران خان کو دو سال تک کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔میرے نزدیک پاک فوج وزیراعظم عمران خان کا ایک پیج پر ہونا بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ہے۔