وزیراعظم ہاﺅس اورگورنر ہاﺅسز کے بعد سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی باری آ گئی

پنجاب کے سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل ستمبر 13:50

وزیراعظم ہاﺅس اورگورنر ہاﺅسز کے بعد سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی باری آ گئی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 ستمبر۔2018ء) وزیراعظم ہاﺅس اورگورنر ہاﺅسز کے بعد سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی باری آ گئی ہے ، پنجاب حکومت نے ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے تمام سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے. نجی ٹی وی نے پنجاب حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری ریسٹ ہاﺅسزبڑی کمپنیوں کوماہانہ اورسالانہ بنیادوں پرلیزکرنے پرغور کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں تمام محکموں کےریسٹ ہاﺅسز کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں.

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعدریسٹ ہاﺅسزلیز پردینے کاعمل شروع ہوگا. واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاﺅس میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا تھا. وزیراعظم ہائئس اسلام آباد ایک ہزار 96 کنال پر مشتمل ہے اور اس کا سالانہ خرچہ 47 کروڑ روپے ہے، اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی بنایا جائے گا اور یہ تعلیمی ادارہ پاکستان میں منفرد ہوگا، جب کہ وزیر اعظم ہاﺅس کے پیچھے زمین پر مزید تعمیرات بھی ہوگی‘تعلیمی ادارے کاپی سی ون بنے گا.

علاوہ ازیں گورنر ہاﺅس مری کو ہیریٹیج بوتیک ہوٹل بنایا جائے گا، جبکہ پنجاب ہاﺅس مری کے حوالے سے پنجاب حکومت تمام اعدادوشمار اکٹھے کر کے اسے ٹوریسٹ ریزورٹ بنائے گی. اسی طرح گورنر ہاﺅس لاہور کی مال روڈ والی دیوار گرا کر وہاں خوبصورت جنگلہ لگایا جائے گا جس سے اندر کا خوبصورت منظر دکھائی دے گا۔

(جاری ہے)

لاہور میں موجود چنبہ ہاﺅس کو گورنر آفس بنا دیا جائے گا، اسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کی تجویز دی گئی ہے. گورنر ہاﺅس بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا جب کہ کراچی کے گورنر ہاﺅس کو بھی میوزیم میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے.