نواز شریف،مریم نواز کے بعد حنیف عباسی کے لیے بھی اچھی خبر آ گئی

حنیف عباسی کی سزا کے خلاف اور ضمانت پر رہائی سے متعلق درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لی گئیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 14:43

نواز شریف،مریم نواز کے بعد حنیف عباسی کے لیے بھی اچھی خبر آ گئی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی سزا کے خلاف اور ضمانت پر رہائی سے متعلق درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق آج ایفی ڈرین کوٹہ کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس عباد الرحمن اور جسٹس شاہد مبین پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت حنیف عباسی کی ضمانت پر رہائی اور سزا کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ  کے ڈویژن بنچ نے اے این ایف کو نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔واضح رہے اس سے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ضمانت ہر رہائی مل چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل سے باہر آ گئے ہیں۔اور اب مسلم لیگ ن کے رہنما اور ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا یافتہ حنیف عباسی کی درخواست بھی منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد ان کی ضمانت پر رہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کی جائے گی اور فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا حنیف عباسی کو ضمانت پر رہائی مل سکتی ہے یا نہیں۔

(جاری ہے)

اضح رہے 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ سزا معطلی کا حکم نامہ جاری ہونے اور نواز شریف کی رہائی سے قبل اڈیالہ جیل میں متعدد رہنماؤں نے نواز شریف سے جیل سپرنٹنڈٹ کے کمرے میں ملاقات کی تھی، جس میں ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا پانے والے حنیف عباسی بھی موجود تھے۔

تاہم ملاقات کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اور جس میں جیل انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے اڈیالہ جیل سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پارٹی رہنما حنیف عباسی کی تصاویر لیک ہونے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات 2 رکنی کمیٹی کو سونپ دیں تھیں۔جس کے بعد ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا پانے والےپاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو تصویر لیک ہونے کے معاملے کے بعد راولپنڈی اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھا۔