موجودہ حالات حزب اختلاف کا امتحان ہیں،

ملک اور قوم کو ہرگزمایوس نہیں کریں گے، ہم نے جمہوری، دستوری اور پارلیمانی قرینوں اور اقدار کی ایک نئی طرح ڈالنی ہے، قوم کا پارلیمنٹ پر اعتماد بڑھانا ہے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب

منگل ستمبر 16:05

موجودہ حالات حزب اختلاف کا امتحان ہیں،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) مسلم لیگ (ن) کے صدر قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات حکومت سے زیادہ حزب اختلاف کا امتحان ہیں،ایک تاریخی کردار اداکرتے ہوئے ملک اور قوم کو ہرگزمایوس نہیں کریں گے۔ وہ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں پارٹی کی سینئر قیادت، سینٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے شرکت کی۔

شہباز شریف نے کہاکہ ۔ہم اب پارلیمنٹ کے اندر اور باہر قوم اور ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے بھی بھرپورمحنت، جذبے اور دیانتداری سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے تنقید برائے تنقید اور اختلاف برائے اختلاف کے بجائے جمہوری،دستوری اور پارلیمانی قرینوں اور اقدار کی ایک نئی طرح ڈالنی ہے۔

(جاری ہے)

قوم کا پارلیمنٹ پر اعتماد بڑھانا ہے۔ اپنے کرداراور عمل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم بڑے دعوے نہیں کرتے بلکہ قوم کی امانت کی پوری دیانت داری اور خداخوفی سے حفاظت کرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ اہلیت، دیانتداری اور خلوص نیت ہو تو پارلیمان سے طاقتور کوئی فورم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس فورم کو قوم کی قوت ، عزت کی علامت، خواہشات وامنگوں کا گہوارہ، امیدوں اور مطالبات کی تکمیل کا ذریعہ ثابت کرنا ہے۔ قوم پر ثابت کرنا ہے کہ حزب اختلاف ان کی امیدوں، آرزؤں اور خواہشات کی حقیقی امین ہے۔

وہ ہی ان کی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتی ہے۔ شہباز شریف نے کہاکہ حکومت میں جس جذبے سے کام کیاتھا اسی جذبے، لگن اور ولولے سے پارلیمانی ریکارڈ قائم کریں گے۔مذکورہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی اور مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور مجالس قائمہ کے چیئرمینوں کے تقرر کے حوالے سے ناموں کو حتمی شکل دی گئی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ سی پیک، لوکل باڈیز نظام اور ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے مختلف رہنما نہ صرف مسلسل حکومتی اقدامات پر نظررکھیں گے بلکہ اس ضمن میں رائے عامہ بھی ہموار کی جائے گی اور قوم کو ان اہم معاملات میں مسلسل باخبر رکھاجائے گا۔ اجلاس میں لوکل باڈیز نظام کے تحفظ کے حوالے سے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔