برطانوی صحافی بینظیر بھٹو سے کیوں متاثر تھیں؟

کرسٹینا لیمب کی میز پر ہر وقت 2007 کی بینظیر کی موت سے پہلے لی جانے والی تصویر سجی رہتی ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 16:45

برطانوی صحافی  بینظیر بھٹو سے کیوں متاثر تھیں؟
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25 ستمبر 2018ء) مشہور صحافی کرسٹینا لیمب مرحومہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شخصیت سے انتہائی متاثر ہیں۔کرسٹینا لیمب کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو نے ان زندگی بدل کے رکھ دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بہت سے غیر ملکی صحافیوں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے انہیں میں ایک نام برطانوی صحافی کرسٹا لیمب کا بھی ہے جنھوں نے پاکستان میں خوب شہرت حاصل کی۔

وہ سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی قریبی دوست ہیں۔کرسٹینا لیمب کا ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے بی بی سی ریڈیو پر پروگرام کرنے کے لیے بینظیر بھٹو کا انتخاب کیا جنھوں نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
انہوں نے اپنے ریڈیو پروگرام میں بینظیر بھٹو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اس وقت تاریخ رقم کی جب ان کی عمر 35 سال تھی اور وہ مسلم اکثریت والے ملک پاکستان کی جمہوری طور پر منتخب کی گئی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں۔

(جاری ہے)

کرسٹینا لیمب نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ بینظیر کا خاندان پاکستان کے مشہور سیاسی خاندانوں میں سے ایک ہے۔جو خاندان کے افراد کے قتل جیسے سانحوں سے گزرا۔1988ء میں جب بے نظیر بھٹو پاکستان آئیں تو کرسٹینا نے ان کا ایک انٹرویو کیا جس کا پاکستان میں خوب چرچا رہا۔ اس انٹرویو کے بعد وہ بے نظر بھٹو کی ذاتی دوست بن گئیں اور اگلے سال بے نظیر بھٹو نے انہیں خصوصی طور پر اپنی شادی میں مدعو کیا تھا۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ کرسٹینا پربینظیر بھٹو کی زندگی کا اتنا زیادہ اثر تھا کہ ان کی میز پر ہر وقت 2007 کی بینظیر کی موت سے پہلے لی جانے والی تصویر ہر وقت سجی رہتی ہے ، کرسٹینا اس وقت ان کے ساتھ ہی تھیں۔وہ اب بھی اس خوفناک دن کو یاد کرتی ہیں۔