سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کے سفاکانہ قتل کے مقدمے کی رپورٹ طلب کرلی

منگل ستمبر 22:44

سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اہلکار کے سفاکانہ قتل کے مقدمے کی رپورٹ طلب ..
حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے ڈیوٹی پر مامورپولیس اہلکار کے سفاکانہ قتل کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم کی ضمانت کیلئے دائر درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج مٹیاری سے مقدمے کی پروگریس رپورٹ منگوالی،شہید پولیس اہلکار عبدالرزاق بلدیہ تھانے پرڈیوٹی پر مامور تھا اورجرائم پیشہ افراد کی انفارمیشن کیلئے ٹنڈوآدم اوڈیرولعل گیاتھا،6ملزمان نے عبدالرزاق کو لوہے کی سلاخوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مارکرقتل کردیاتھا،جبکہ مقتول کو بچانے کی کوشش کرنے والے اس کے والد پر شدید تشدد کرکے زخمی کردیاتھا،تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے اوڈیرولعل ٹنڈوآدم تھانے کے قتل کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم لعل محمد ہکڑوکی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست پر ٹرائل کورٹ ،ایڈیشنل سیشن جج مٹیاری کی عدالت سے مقدمے کی پروگریس رپورٹ منگوانے کے احکامات جاری کردئیے،مقدمے کے مدعی مقتول پولیس اہلکار کے بیٹے علی رضا کی جانب سے پیروی ایڈوکیٹ اشفاق خاصخیلی نے کی،گزشتہ سال اوڈیرلعل تھانے پرمقتول پولیس اہلکار عبدالرزاق خاصخیلی کے بیٹے نے ایف آئی آر نمبر21/2017زیردفعہ 302درج کرائی تھی جس میں بتایاگیاکہ میرے والد بلدیہ تھانہ حیدرآباد پر ڈیوٹی پر تعینات تھے اوردوران ڈیوٹی وہ حیدرآباد سے اوڈیرولعل ٹنڈوآدم جرائم پیشہ افراد کی انفارمیشن کیلئے گئے تھے،اورمیں اپنے والد دادا کے ساتھ ہوٹل پر بیٹھا تھاکہ 3موٹرسائیکل پر سوار 6ملزمان علی احمد ولد نذیراحمد ہکڑو،بلال ولد محمد حسین ہکڑو،حنیف ولد شریف ہکڑو،رضامحمد ولد غلام صدیق ہکڑو،لعل محمد ولد غلام صدیق ہکڑووہاں پہنچ گئے اورگالم گلوچ کرتے ہوئے میری والد عبدالرزاق خاصخیلی کو کہاکہ تم ہمارے ساتھی جوکہ جرائم میں ملوث ہیں ان کی مخبری کرتے ہوئے اورعلی احمد ہکڑو نے پستول سے فائرکرکے میری والد گولی ماری جبکہ دیگر ملزمان حنیف ،لعل محمد والوں نے لوہے کی سلاخوں سے میرے والد اورمیرے داداخمیسوکو وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایاجس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے ،میرے والد اوردادا کو مٹیاری اسپتال لایاگیا جہاں ڈاکٹر نے میرے والد کی موت کی تصدیق کی اورمیرے داداکا بازو ٹوٹ گیا ،ایڈیشنل سیشن جج مٹیاری کی عدالت نے ملزم لعل محمد کی ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد ملزم کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے،سماعت کے دوران ایڈوکیٹ اشفاق خاصخیلی نے دلائل دئیے کہ ملزم نے عبوری ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرائل کورٹ میں کیس چلانے سے مسلسل گریز کرتارہاہے اوراپنی ضمانت کی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گواہان کو پریشان کررہا ہے،اوراس حوالے سے ایڈیشنل سیشن جج مٹیاری (ٹرائل کورٹ) نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزمان مقدمہ چلانے میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں،جس پر عدالت نے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کی پروگیس اورتفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 04اکتوبر تک ملتوی کردی،جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم بلال روپوش اورلعل محمد اورنذیراحمد ضمانت پر ہیں ۔