افغانستان میں امریکا اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کررہا ہے.فوج کو زیادہ ہلاکتوں کا سامنا ہے . امریکی وزیردفاع

شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو آسانی سے نہیں چھوڑ نا چاہتا‘ کمیونسٹ حکومت کا موقف تبدیل کراناایک مشکل کام ہے . سی آئی اے کی سربراہ کا خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 12:09

افغانستان میں امریکا اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کررہا ہے.فوج کو زیادہ ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 ستمبر۔2018ء) امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کررہا ہے، جس کا عمل تیزی سے جاری ہے. تفصیلات کے مطابق افغانستان سے متعلق اپنے بیان میں جیمز میٹس نے کہاکہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں مقامی فوجیوں پر حملے کیے جارہے ہیں اسی تناظر میں جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا.

امریکی وزیر دفاع نے کہاکہ افغان فوج کو گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہلاکتوں کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود وہ جنگی کارروائیوں میں شریک ہے.

(جاری ہے)

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے بغلان میں طالبان نے سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 30 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے. واضح رہے کہ چند روز قبل افغانستان میں شدت پسندوں کی جانب سے دو دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ گذشتہ ماہ افغان صوبے فریاب میں سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں مبینہ طور پر 73 طالبان ہلاک جبکہ 31 زخمی ہوئے تھے.

علاوہ ازیں گذشتہ ماہ روس کی جانب سے ماسکو میں کثیر الملکی مذاکرات کا انعقاد کیا جارہا تھا جس میں طالبان کو مدعو کیا گیا تھا تاہم امریکی اور افغان حکام نے شرکت سے انکار کردیا تھا. دوسری جانب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی سربراہ جینا ہاسپیل نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ آن اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو آسانی سے نہیں چھوڑ نا چاہتے تاہم ایسے اشارے ضرور ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر سنجیدہ ہے.

ایک امریکی یونیورسٹی میں خطاب کے دوران سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل نے کہا کہ کم جونگ ان شمالی کوریا کے عوام کی معاشی مشکلات سے آگاہی رکھتے ہیں اور صورتحال میں بہتری کے خواہاں ہیں. سی آئی اے کی سربراہ نے اس موقع پر امریکی موقف کو دہرایا کہ کمیونسٹ حکومت اپنے ملک کی جوہری صلاحیت کو اپنے اقتدار کے لیے ضروری خیال کرتی ہے اور اسے اپنے حق میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے،لیکن امریکا شمالی کوریا کو اس معاملے پر قائل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے ،اس بہتر پوزیشن کی وجہ بیان کرتے ہو ئے انہوں نے جواز پیش کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان براہِ راست رابطوں اور تعلق کا استوار ہونا ہے جو کہ مثبت معاملہ ہے.

جینا ہاسپیل انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ حکومت کا موقف تبدیل کراناایک مشکل کام ہے کیوں کہ اس بارے میں ان کا خیال ہے کہ جوہری ہتھیار برسوں کی محنت سے تیار کئے گئے ہیں تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکا شمالی کوریا کو رضامند کرنے کی اچھی پوزیشن پر ہے.