پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا یو این پیس کیپنگ آپریشنز کے حوالے سے اجلاس سے خطاب اجلاس میں مشترکہ عزائم کے ڈیکلریشن کی منظوری دی گئی

بدھ ستمبر 12:29

پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والا بڑا ..
اقوام متحدہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) پاکستان نے تنازعات کا شکار خطوں میں بدلتے اور بڑھتے بے ڈھب خطرات سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے مینڈیٹ کو یقینی بنانے اور انہیں درکار وسائل فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس کے موقع پر یو این پیس کیپنگ آپریشنز کے حوالے سے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کی کامیابی ان مشنز میں شامل مردو خواتین اہلکاروں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ، ہم امن کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے ان اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور اس نے دنیا کے 46 ممالک میں تعینات امن مشنز کے لئے گزشتہ 6 عشروں کے دوران 2لاکھ سکیورٹی اہلکار فراہم کئے ہیں جن میں سے 156 بہادروں نے امن کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ‘ وزیر خارجہ نے اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش کے ایکشن فار پیس کیپنگ منصوبے (A4P) کا خیر مقدم کیا ور کہا کہ مختلف امن مشنز کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔

(جاری ہے)

مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے اس منصوبے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے۔ وزیر خارجہ نے امن مشنز کی ریشنلائزنگ اور ان کے مینڈیٹ کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا ‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے معاونت کی ہے وہ اس حوالے سے ڈکلریشن کی توثیق کرنے وال پہلا ملک ہے اور اس بات کا اعتراف خود سیکرٹری جنرل نے بھی کیا ہے۔

ا س موقع پر مشترکہ عزائم کے ڈیکلریشن کی بھی منظوری دی گئی۔ ڈیکلریشن میں متعلقہ اداروں بشمول یو این سیکرٹریٹ ‘ سلامتی کونسل ‘ جنرل اسمبلی ‘ امن دستوں کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والے ممالک ‘ تنازعات کا شکار ممالک ‘ فنڈز فراہم کرنے والے ممالک اور علاقائی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔