گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد 11کھلاڑی بھی نیلام کیے جائیں

کھلاڑی نیلام کرنے سے تین ہزار ارب GB ڈیٹا اور 20 ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی کی بچت ہو گی جو قوم کرکٹ میچ دیکھنے میں خرچ کرتی ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 13:15

گاڑیوں اور بھینسوں کے بعد 11کھلاڑی بھی نیلام کیے جائیں
لاہور(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 ستمبر2018ء) پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے بہت جوش و خروش دیکھنے میں آتا ہے۔اور خاص طور پر جب میچ پاکستان اور بھارت کے مابین ہو تو پھر کرکٹ دیکھنے کا جنون اور بڑھ جاتا ہے۔روایتی حریف بھارت کے ساتھ میچ بہت دلچسپ ہوتا ہے اور دونوں ملکوں میں ہی اس میچ کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔تاہم ایشیا کپ 2018ء میں پاکستان بھارت کے ساتھ کھیلے جانے والے دونوں میچ ہار گیا جس کے بعد پاکستانی کرکٹ شائقین شدید مایوس ہوئے۔

معروف صحافی مبشر لقمان بھی بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر دلبرداشتہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80 کاروں اور 8 بھینسوں کے بعد11 کھلاڑی نیلام کئیے جائیں گے. اس سے تین ہزار ارب GB ڈیٹا اور 20 ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی کی بچت ہو گی جو قوم کرکٹ میچ دیکھنے میں خرچ کرتی ہے.
سوشل میڈیا صارفین نے بھی مبشر لقمان کے اس ٹویٹ پر دلچسپ قسم کے تبصرے کیے ہیں۔

(جاری ہے)

کچھ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ کہ واقعی کرکٹ ٹیم کو نیلام کر دینی چاہئیے تاہم کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے اس لیے ٹیم سے مایوس ہونا اچھی بات نہیں ہے۔یاد رہے کہ بھارت نے ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے ایک میچ میں پاکستان کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 9 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ دبئی کے انٹرنیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں بھارت نے پاکستان کے 238 رنز کے ہدف کو محض 40ویں اوور میں پورا کرلیا۔

۔بھارت کی جانب سے دونوں اوپنرز روہت شرما اور شکھر دھون میں شاندار سنچریاں سکور کیں اور پاکستانی گیند بازوں کےخلاف گراﺅنڈ کے چاروں طرف شاندار شاٹس لگائے۔شیکھر دھون 114 رنز بناکر رن آﺅٹ ہوگئے جبکہ روہت شرما 111 رنز بناکر ناٹ آﺅٹ رہے۔ اس سے قبل پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا۔

دونوں اوپننگ بلے بازوں نے محتاط انداز اپنایا اور بھارتی بولروں کےخلاف بڑی شارٹس لگانے سے گریز کیا تاہم آٹھویں اوور میں امام الحق یزویندرا چاہل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے، وہ 10 رنز ہی بناسکے۔اگلے آﺅٹ ہونے والے بلے باز فخر زمان تھے جو کریز پر اپنا توازن کھو بیٹھے کلدیپ یادیو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے جبکہ بابر اعظم 9 رنز بناکر رن آﺅٹ ہوگئے۔

تین کھلاڑیوں کے جلد آﺅٹ ہونے کے بعد شعیب ملک اور کپتان سرفراز احمد نے ٹیم کو سنبھالا اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 107 رنز کی شراکت قائم ہوئی، 165 کے مجموعی سکور پر سرفراز احمد 44 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئے۔شعیب ملک نے بھی 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 78 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، وہ جسپریت بھمراہ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آﺅٹ ہوئے۔

شعیب ملک کے بعد آصف علی اچھے آغاز کے باوجود اپنی اننگز کو آگے لیکر نہ جاسکے اور 30 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر یزویندرا چاہل کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔آصف علی کے آوٹ ہونے کے بعد انڈین گیند بازوں نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اختتامی اوورز میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو تیزی سے رنز سکور کرنے سے باز رکھا۔پاکستانی بلے باز بمشکل 237 رنز ہی بناپائے۔ اختتامی اوورز میں بھارتی بولرز کے غلبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آخری 7 اوورز میں پاکستان صرف 38 رنز ہی بنا پایا۔۔بھارت کی جانب سے جسپریت بمراہ، یزویندرا چاہل اور کلدیپ یاودیو نے دو، دو کھلاڑیوں کا آﺅٹ کیا۔