سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کا فیصلہ‘نوازشریف اور شہبازشریف کو طلب کرنے کی درخواست خارج

ہائی کورٹ نے سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے نام ملزمان کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ برقراررکھا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 13:36

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کا فیصلہ‘نوازشریف اور شہبازشریف کو طلب کرنے کی ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 ستمبر۔2018ء) لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے استغاثہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ‘سابق وزراءاور افسران کی طلبی سے متعلق عوامی تحریک کی درخواست خارج کردی ہے. جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف،شہبازشریف ،خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید،خواجہ آصف ،توقیر شاہ اعظم سلمان اوردیگرکو بے قصور قرار دیدیااور عوامی تحریک کی درخواست خارج کردی جبکہ عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم د یا.

(جاری ہے)

اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے استغاثہ کیس میں نواز شریف، شہباز شریف سمیت سابق وزرا ءکو بے گناہ قرار دیا تھا جبکہ عوامی تحریک نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی،جس پرفیصلہ محفوظ کیاگیا تھا. عدالت نے سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے نام ملزمان کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ برقرار رکھا. لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ دو ایک کی اکثریت سے آیا، جسٹس سرداراحمد نعیم اور جسٹس عالیہ نیلم نےدرخواستیں مسترد کیں جبکہ فل بینچ کےسربراہ جسٹس قاسم خان نے اختلافی نوٹ لکھا.

جسٹس سرداراحمد نے تحریری فیصلے میں کہا اےٹی سی نے گواہوں کی شہادتوں کے بعد سیاستدانوں کو طلب نہیں کیا، جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا تھا کہ عدم شواہد پرسیاستدانوں کی طلبی عدالتی کارروائی کو خراب کرے گی ، کیس دوبارہ ٹرائل کے لیے ماتحت عدالت کو نہیں بھجوایا جاسکتا. فل بینچ کےسربراہ جسٹس قاسم خان نے کہا میرے خیال میں سیاستدانوں کو طلب نہ کرنے کا فیصلہ درست نہیں.

یاد رہے ٹرائل کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے استغاثہ کیس میں نواز شریف، شہباز شریف سمیت سابق وزرا کو بے گناہ قرار دیا تھا، عوامی تحریک نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی. رواں سال 27 جون کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا.