پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پاس محض 2 ماہ

پاکستان تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا، عمران خان کو اپنے مضبوط حامیوں کو خوش کرنا ہو گا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ ستمبر 13:38

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پاس محض 2 ماہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 ستمبر 2018ء) :عام انتخابات 2018ء میں شاندار کامیابی سے پاکستان تحریک انصاف نے نہ صرف اپنے حمایتیوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین نے پارٹی کی اس قدر شاندرا کامیابی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی دھاندلی کا نعرہ بُلند کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات 2018ء میں کامیابی کے بعد حکومت سازی میں مصروف ہو گئی لیکن پارٹی کے سیاسی مخالفین پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سازی سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔

جس کے بعد بالآخر پاکستان تحریک انصاف نے نہ صرف خیبرپختونخواہ میں دوسری مرتبہ حکومت قائم کی بلکہ وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت سازی میں کامیاب ہو گئی۔

(جاری ہے)

حکومت سازی کے اس سارے پراسیس میں پاکستان تحریک انصاف کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ، یہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف ،جو ہمیشہ روایتی سیاست پر تنقید کرتی تھی، کو خود بھی اس مرتبہ روایتی سیاست کا سہارا لینا پڑا اور کئی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت سازی میں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سازی میں جن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا ان میں پاکستان مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نمایاں ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ق کو اتحادی بنانے پر تو جو تنقید ہوئی وہ الگ ، ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخواہ اور پنجاب سمیت وفاق میں بھی اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار سنبھالے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، اس عرصے میں وزیراعظم عمران خان نے کئی یوٹرن لیے ، اعلانات کر کے واپس لیے۔ یوں تو پاکستان تحریک انصاف اور تبدیلی کا ایک بہت گہرا تعلق ہے۔موجودہ حکمران جماعت کی سیاست ''تبدیلی'' کے ارد گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے سیاسی حریفوں کو شکار کیا وہیں یہ خود بھی اکثر جگہوں پر ''تبدیلی'' کا شکار ہو چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ایک ماہ کے اقتدار میں انہیں اتحادیوں کی جانب سے بھی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ایک کڑی آزمائش کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب وزیراعظم عمران خان نے افغان اور بنگالی مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کا اعلان کیا اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے اس کی مخالفت کی اور اپوزیشن بنچوں میں جا کر بیٹھ گئے۔

اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس مزید 2 ماہ رہ گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس دو ماہ کے عرصہ میں خود کو ثابت کرنا ہو گا، یہ دکھانا ہو گا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ماضی کی تمام حکومتوں سے بہتر ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اقتدار میں رہنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کو بھی خوش اور مطمئن رکھنا ہو گا۔

اگر پاکستان تحریک انصاف کے اتحادیوں نے حکومتی جماعت سے ناراض ہو کر بغاوت کر دی اور اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا تو عین ممکن ہے کہ موجودہ حکمران جماعت کا اقتدار ڈگمگا جائے۔لہٰذا آئندہ 2 ماہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے نہایت اہم قرار دئے جا رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بالخصوص عمران خان کو حکومتی امور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مضبوط اتحادیوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا ۔

عین ممکن ہے کہ اس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سخت فیصلے نہ کر سکے، کیونکہ اقتدار کے آغاز میں اتحادیوں کو خوش اور مطمئن رکھنا ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برقرار رہنے کی شرط ہے بصورت دیگر موجودہ حکمران جماعت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اس سے پاکستان تحریک انصاف کا حکومتی مدت ختم نہ کر سکنے کا خدشہ پیدا ہونے کا بھی امکان ہے۔