بھارت میں ظلم کی انتہا، جے شری رام کہنے کے باوجود مسلمان بچے کا ہاتھ کاٹ دیا گیا

محرم الحرام کے جلوس پر پتھراؤ بھی کیا گیا، بھارت کو سخت تنقید کا سامنا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ ستمبر 14:22

بھارت میں ظلم کی انتہا، جے شری رام کہنے کے باوجود مسلمان بچے کا ہاتھ ..
بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 ستمبر 2018ء) : بھارت جو خود کو لبرل کہتا ہے ، اکثر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت میں مسلمانوں کو بھی سخت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بھارتی فوج کے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھُپے نہیں ہیں ، لیکن اس سب کے باوجود بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور سفاکیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

حال ہی میں بھارت میں ایک مسلمان بچے کو ہندو دیوتا کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا اور نعرہ لگانے کے باوجود بھی مشتعل بھارتیوں نے بچے کا ہاتھ کاٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق بہار کےضلع چمپارن میں گذشتہ دنوں سے ماحول کافی حد تک کشیدہ ہے۔ 23 ستمبرکومحرم الحرام کے ایک جلوس پرپتھراؤ بھی کیا گیا جس میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔

(جاری ہے)

بھارتی شرپسندوں نے کرسیاں، رکسا، جھوّا رام، بٹوّا اور کٹھملیا وغیرہ علاقوں میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اہل علاقہ نے بتایا کہ راشٹریا سویم سیوک سنگ (آر ایس ایس) اور بجرنگ دل والوں نے امن برقرار رکھنے کی ہماری ہر کوششوں ناکام بنا دی۔ بھارتی شرپسندوں نے چھتوں سے اینٹ اور پتھر برسائے اور سڑکوں پر لوگوں کوزدوکوب کیا۔ انہی میں سے ایک علاقہ میں نوجوان اسپتال سے قریبی عزیز کی عیادت کر کے موٹر سائیکل پر سوار گھر واپس جا رہا تھا کہ راستے میں انتہاپسند ہندوؤں نے حملہ کرکے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

خون میں لت پت لڑکے نے کہا کہ میں تو دہلی میں پڑھتا ہوں۔ یہاں اسپتال میں داخل ماموں زاد بھائی کی تیمارداری کرنے آیا تھا۔ مجھے گھر واپس جاتے ہوئے سڑک پربعض لوگوں نے پکڑ لیا اور ''جے شری رام'' کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ جس پر میں نے یہ نعرہ بھی لگایا لیکن انہوں نے نعرہ لگانے کے باوجود مجھ پر حملہ کیا اور میں زخمی ہو گیا۔ بھارتی شر پسندوں کے حملوں میں موتیہاری ضلع میں اقلیتی طبقے کے تقریباً ایک درجن افراد بھی زخمی ہوئے۔ اس درمیان بٹوّا چوک پر بعض مسلم خواتین کو بھی راشٹریا سویم سیوک سنگ (آر ایس ایس) اور بجرنگ دل کے لوگوں نےتشدد کا نشانہ بنایا۔