وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام شہری اور دیہی علاقوں میں ڈینگی وائرس کے سدباب کے لئے مؤثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، شہریار خان آفریدی

بدھ ستمبر 14:51

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام شہری اور دیہی علاقوں میں ڈینگی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام شہری اور دیہی علاقوں میں ڈینگی وائرس کے سدباب کے لئے مؤثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘ حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے ڈبلیو ایچ او سمیت تمام اداروں اور فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے‘ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال ڈینگی وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہو کر 35 تک آگئی ہے‘ اس حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں نفیسہ عنایت اللہ خٹک کے وفاقی دارالحکومت کے دو ہسپتالوں میں ڈینگی وائرس کی مثبت علامات کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارخان آفریدی نے کہا کہ ڈینگی نے معصوم انسانوں کی جانیں لی ہیں۔

(جاری ہے)

پنجاب‘ کے پی کے سمیت تمام صوبوں اور وفاق کی سطح پر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ستمبر میں اس مرض کی شکایات آنا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ مرض نومبر میں ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال ڈینگی کی شکایات کم ہو کر 35 ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے وزارت صحت نے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔ میں نے خود لیبارٹری کا دورہ کیا ہے۔ ہم اس حوالے سے ہرممکن اقدامات کریں گے۔ ڈبلیو ایچ او سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اس مرض کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ توجہ مبذول نوٹس پر نفیسہ عنایت اللہ خٹک‘ راجہ خرم نواز اور جنید اکبر کے سوالات کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ جس علاقے سے جو بھی مریض آتا ہے اس تمام علاقے کو محفوظ بنانے کے لئے سپرے کیا جاتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی سمیت تمام فریقین سے اس معاملے پر رابطہ میں ہیں۔ جہاں سے وائرس کی شکایت ملتی ہے مقامی انتظامیہ وزارت صحت کو بذریعہ فیکس اور وٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دیتی ہے۔ پہلے صرف ریڈ زون ایف سکس سمیت پوش علاقوں پر توجہ دی جاتی تھی، اب ہم نے اسلام آباد کے نواحی علاقوں پر توجہ دینا شروع کی ہے جہاں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں بھی اس مرض کے مریضوں کے لئے الگ جگہ مختص کر رکھی ہے۔ جہاں مچھر دانیوں سمیت تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔