سیف الرحمٰن کے وئیر ہاؤس میں قطری گاڑیوں کے علاوہ اور کیا موجود ہے؟

ایمبیسی میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے قطری شہزادے نے مجھ سے جگہ کرائے پر لے رکھی تھی اور گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے شکار کا سامان،بستر اور ائیر کنڈیشنر سمیت اور بھی سامان وہیں موجود ہے۔ سیف الرحمٰن

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 15:57

سیف الرحمٰن کے وئیر ہاؤس میں قطری گاڑیوں کے علاوہ اور کیا موجود ہے؟
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26 ستمبر 2018ء) وئیر ہاؤس سے قطری گاڑیوں کی بر آمدگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سیف الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ اگر گاڑیاں قطری سفارتخانے کی ہیں تو انہیں ایمبیسی میں رکھا جائے ۔ایمبسی میں اتنی جگہ نہیں ہوتی اس لیے شیخ صاحب نے مجھ سے جگہ کرائے پر لے رکھی ہے۔اور گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے شکار کا سامان بھی وہیں موجود ہے۔

اس کے علاوہ بستر ،ائیر کنڈیشن سمیت اور بھی سامان موجود ہے۔سیف الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ میرا قطر کے شیخ کے ساتھ چالیس سال سے تعلق ہے اور میرا اپنا کاروبار بھی قطر میں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قطری شہزادے ایک بہت مشہور شخصیت ہیں اور انہوں نے کبھی غیر قانونی کام نہیں کیا۔اور جب یہ گاڑیاں پاکستان لائیں گئی تو حکومت پاکستان کی اجازت کے ساتھ لائی گئی جس کے کا غذات بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

غلط فہمی اور غلط معلومات کی وجہ سے چھاپہ مارا گیا ہے جو کہ سرا سر ایک غلط اقدام ہے۔واضح رہے کسٹمز انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دو روز قبل وئیر ہاؤس پر چھاپہ مارا گیا اور اس دوران 20 قیمتی گاڑیاں برآمد کرلی گئیں۔ برآمد کی گئی گاڑیوں کا تعلق قطر کے سفارت خانے سے بتایا گیا ، تاہم سفارتخانے کا عملہ گاڑیوں کے کاغذات فراہم نہیں کرسکا جس کے باعث تمام گاڑیاں ویئر ہاؤس میں ہی سیل کردی گئیں۔

ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں تلور کے شکار میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں کو یہاں سے ہر سال صحرائی علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ویئر ہاؤس کے مالک سابق سینیٹر سیف الرحمان نے دوحا سے نجی ٹی و ی کو بتایا کہ ان کے ہاں کوئی غلط کام نہیں ہوا، ہماری جگہ صرف اسٹوریج کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں چار پانچ سال سے یہاں موجود ہیں، گاڑیاں قطری شیخ جاسم بن حمد کی ہیں، جو صحرا میں شکار کے لیے لائی گئی ہیں۔

ان کی کلیئرنس دفتر خارجہ کے ذریعے ہوتی ہے۔ دوسری جانب قطری سفارتخانے نے روات سے برآمد گاڑیوں کی ملکیت کی تصدیق کرتے ہوئے تفصیلات جاری کردی ہیں۔ قطری سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں سیف الرحمان کی پاس ہماری 26 گاڑیاں موجود ہیں۔ گاڑیاں سابق قطریوزیراعظم شیخ حمد بن جاسم نے شکار کیلئے قانونی طور پر منگوائیں۔

اس حوالے سے اب قطری شہزادے شیخ جاسم بن حمد کی جانب سے بھی ہنگامی طور پر حکومت پاکستان کو خصوصی خط تحریر کیا گیا ہے۔ قطری شہزادے نے اپنے خط میں سابق سینیٹر سیف الرحمان کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ روات کے ویئر ہاوس سے ضبط کی گئیں گاڑیاں ان کی ملکیت ہیں جو وہ دورہ پاکستان کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ لہذا اس معاملے میں سیف الرحمان یا گاڑیوں کیخلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی نہ کی جائے۔