حکومت آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں چار سال تک وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا،

بلوچستان اور گوادر کی ترقی کے ثمرات عام بلوچ تک پہنچائیں گے‘ لاپتہ افراد کے معاملے کو اتفاق رائے سے حل کریں گے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

بدھ ستمبر 16:36

حکومت آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں چار سالوں تک وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا‘ سابق حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں تھی‘ جب میاں نواز شریف مودی کی حلف برداری میں گئے تو پہلی مرتبہ وزیراعظم پاکستان حریت کانفرنس کے وفد سے نہیں ملے‘ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کیا وہاں پر استحصال ہوتا رہا‘ ہمارا وژن اور ارادہ ہے کہ بلوچستان اور گوادر کی ترقی کے ثمرات عام بلوچ تک پہنچائیں گے‘ لاپتہ افراد کے معاملے کو اتفاق رائے سے حل کریں گے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن خواجہ محمد آصف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف نے ایوان میں اسد عمر کے خاندان کو نشانہ بنایا جو افسوسناک ہے‘ خواجہ آصف کو یاد نہیں کہ جنرل عمر کے ایک بیٹے کو سابق حکومت نے گورنر بنایا تھا‘ خواجہ آصف کا یہ طرز عمل غلط ہے، ان کے الفاظ کو ریکارڈ سے حذف کیا جائے‘ ہمیں اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس اسمبلی کواس بات پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ اب خارجہ پالیسی بن رہی ہے اور اس پر بحث بھی ہو رہی ہے۔ گزشتہ حکومت نے چار سالوں سے وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا۔ کبھی کبھی کوئی قرارداد آتی تھی اور کچھ عرصہ بعد حکومت اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی۔ اب خواجہ آصف کو یاد آیا کہ خارجہ پالیسی پر ایوان میں بحث کرنی چاہیے۔ پانچ سال تک ان کو توفیق نہیں ہوئی‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب پاکستان کے حوالے سے بیان دیا تو حکومت کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا‘ مسلم لیگ (ن)کو پانچ سال بعد یاد آیا کہ خارجہ پالیسی ہونی چاہیے‘ اس پر مسلم لیگ کو مبارکباد دینی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں جب ہم نے بین الاقوامی معاہدوں کو اسمبلی میں پیش کرنے کی تجویز پیش کی تو اسے اسے رد کردیا گیا۔ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر مارچ 2017ء میں حکومت نے آئی سی جے کو خط لکھا کہ ہم آپ کو آزادانہ جیورسڈکشن نہیں دیں گے‘ خط چلا گیا۔ مشکل سے مہینہ گزرا تھا کہ بھارت آئی سی جے میں گیا اور ہم نے آئی سی جے کی جیورسڈکشن قبول کرلی۔

یہ ایک غلطی تھی۔ دوسری غلطی یہ کی گئی کہ ہمارے کہنے کے باوجود متبادل جج کی تعیناتی نہیں کی گئی۔ ہم نے اس پر اعتراضات کئے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ہم ایسے کیس میں پھنس گئے جس کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کشمیر کی بات بھی کی ہے لیکن وہ بھول گئے کہ جب میاں نواز شریف نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میں گئے تھے تو پہلی بار ایسا ہوا جب وزیراعظم پاکستان حریت کانفرنس کے وفد سے نہیں ملے۔

کشمیر کو انہوں نے کیا اہمیت دی ہے یہ سب کو پتہ ہے۔ ہم کئی سالوں تک پوچھتے رہے کہ کشمیر کمیٹی کے اخراجات اور کامیابیوں کا بتایا جائے۔ پچھلی حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے جو خارجہ پالیسی بنائی ہے وہ عملی ہے۔ وزیراعظم نے سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ کیا۔ یہ دورے کامیاب رہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم مسلم ممالک کی جنگوں میں نہیں پڑیں گے اور ان کے تنازعات کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسی طرح ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ بھی اہمیت کا حامل تھا۔ اس دورے کے دوران ایران میں پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے بات ہوئی اور ایران نے پیغام بھیجا کہ ہم پاکستانی قیدیوں کے مسائل حل کریں گے۔ اس سے واضح ہے کہ دنیا اب ہمیں اہمیت دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار برطانوی حکومت نے منی لانڈرنگ اور منظم جرائم کے ایشو پر ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بدانتظامی کی بات بھی ہوئی ہے اس حوالے سے ان سے پوچھا جائے جو گزشتہ کئی برسوں سے کراچی میں برسراقتدار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگالی اور بہاریوں کی سٹیزن شپ کا مسئلہ بہت پرانا ہے‘ کسی میں ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اس معاملے کو حل کریں۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ مشاورت کرکے اس معاملے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی جو پاکستانی شہری ہیں اور جن کو شہریت نہیں ملی‘ ہم ان کو کس بنیاد پر پاکستانی نہیں مانتے۔

پناہ گزینوں کے معاملے پر بہت جلد ایوان میں ہم اس پر ڈیٹا فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے ڈیموں پر بھی بات کی ہے۔ پانی کے مسئلے پر پانچ سالوں میں یہ لوگ جواب تک نہیں دیتے تھے۔ آج ان کو پانی کا ایشو بھی یاد آگیا۔ اپوزیشن نے اگر ہر مسئلہ پر سیاست کرنی ہے تو کھیل لیں ہم بھی تیار ہیں لیکن اگر سنجیدگی دکھانا ہے تو آئیں مل بیٹھیں مگر خدارا لوگوں کے خاندان پر حملہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مینگل صاحب نے اچھی تقریر کی ہے‘ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کیا وہاں پر استحصال ہوتا رہا۔ ہمارا وژن اور ارادہ ہے کہ بلوچستان اور گوادر کی ترقی کے ثمرات عام بلوچ تک پہنچائیں گے۔ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان میں ترقی کے عمل کو آگے بڑھائے‘ بلوچستان کی ترقی اور مسائل کے حل کے لئے باہر بیٹھ کر فیصلے نہیں کریں گے‘ بلوچوں کو شیئر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل نے جن سیاسی مسائل کا ذکر کیا ہے اس کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ لاپتہ افراد کے معاملے کو اتفاق رائے سے حل کریں گے۔ ہماری حکومت کی یہ پالیسی ہے۔