پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بناکرسمندری راستے سے عالمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہا ہے ،ْ خسرو بختیار

ْ پاکستان بحری تجارت کو فروغ دینے کیلئے مزید اقدامات بھی کرے گا ،ْ عوامی جمہوریہ چین کے اشتراک و تعاون سے گوادر بندرگاہ کو پوری دنیا کی بحری تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائیگا ،ْ دو روزہ عالمی کانفرنس کے موقع پر خطاب

بدھ ستمبر 16:45

پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بناکرسمندری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کو دنیا کی جدید ترین بندرگاہ بناکرسمندری راستے سے عالمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہا ہے ،ْ پاکستان بحری تجارت کو فروغ دینے کیلئے مزید اقدامات بھی کرے گا ،ْ عوامی جمہوریہ چین کے اشتراک و تعاون سے گوادر بندرگاہ کو پوری دنیا کی بحری تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائیگا۔

وہ قاہرہ میں دو روزہ عالمی کانفرنس کے موقع پرخطاب کررہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بحیرہ عرب سمندری راستوں سے عالمی تجارت کا مرکز ہے اور70 فیصد عالمی تجارت اس راستے سے ہو رہی ہے جس کو مزید فروغ دینے کیلئے پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین نے سی پیک منصوبہ شروع کر کے سمندری راستوں سے عالمی تجارت کو نئی جہت دی ہے جس کی وجہ سے گوادر بندرگاہ سے بحیرہ عرب اور نہر سویزکے راستے عالمی بحری تجارت کو مزید فروغ اور استحکام حاصل ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر بی آر آئی ممبران کی حیثیت سے گزشتہ 70 سالوں سے بحری تجارتی راستوں کے ساتھ منسلک ہیں ، اب پاک چائنہ راہداری منصوبہ صرف عوامی جمہوریہ چین اور پاکستان کا منصوبہ نہیں رہا بلکہ اس سے جنوبی ایشیاء سمیت پوری دنیا کے ممالک استفادہ کریں گے، اس طرح بی آر آئی اور سی پی ای سی کے ذریعے عالمی تجارت میں مزید وسعت پیدا ہوگی کیونکہ کئی دوسرے ممالک بھی اس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائوتھ ایشیئن سٹریٹجک سٹیبلیٹی انسٹی ٹیوٹ (ساسی) یونیورسٹی نی70 سالہ پاک ،مصر سفارتی و تجارتی تعلقات کے بارے میں اس تقریب کا اہتمام کر کے دنیا بھر کے تجارتی حلقوں کو بہترین پیغام دینے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بحری تجارت کو فروغ دینے کیلئے مزید اقدامات بھی کرے گا اور عوامی جمہوریہ چین کے اشتراک و تعاون سے گوادر بندرگاہ کو پوری دنیا کی بحری تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائیگا۔