پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی خود کروں گا، شہباز شریف

اپوزیشن وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر تقسیم ضرور ہوئی، بہرحال ایک ہے اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، قومی ایشوز پر ہم سب ایک ہیں، چاہتے ہیں خارجہ، داخلہ اور قومی سلامتی کے امور پر اتفاق رائے قائم رہے، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ماضی کی طرح خوشگوار تعلق رہے گا ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کے ارکان سے گفتگو

بدھ ستمبر 17:03

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی خود کروں گا، شہباز شریف
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی خود کروں گا، اپوزیشن وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر تقسیم ضرور ہوئی، بہرحال ایک ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، قومی ایشوز پر ہم سب ایک ہیں، چاہتے ہیں خارجہ، داخلہ اور قومی سلامتی کے امور پر اتفاق رائے قائم رہے، پاکستان کے جمہوری، معاشی اور سیاسی استحکام کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ماضی کی طرح خوشگوار تعلق رہے گا۔

بدھ کو وہ پارلیمنٹ ہائوس کی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی کے ارکان سے گفتگو کررہے تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سابق سپیکر سردار ایاز صادق، خواجہ محمدآصف، رانا ثناء اللہ ، رانا تنویر حسین اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔ اجلاس میں بیگم کلثوم نواز کے ایصال کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔

وفد سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ قومی اسمبلی میں پہلی بار نہیں آیا، اس سے قبل 1990ء میں اس ایوان کا ممبر منتخب ہوا ۔ پی آر اے کے ساتھ ویسے ہی خوشگوار تعلق رہے گا جیسا سابق سپیکر ایاز صادق کا رہا ہے ۔ تمام اپوزیشن کی خواہش ہے کہ متحد ہوکر چلا جائے ۔ اپوزیشن وزیراعظم اور صدر کے انتخاب پر تقسیم ضرور ہوئی لیکن بہرحال ایک ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، قومی ایشوز پر ہم سب ایک ہیں۔

ہماری کوشش ہے خارجہ ، داخلہ اور قومی سلامتی کے امور پر اتفاق رائے رہے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی میں خود کروں گا روایات کو برقرار رہنا چاہیئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے رابطے روز ہوتے ہیں، مدد کے لیے آصف زرداری سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ پیپلز پارٹی سے کوئی مدد طلب کی گئی ہو۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تمام اداروں کا آئین میں کردار متعین ہے، انہیں آئینی حدود میں ہی رہنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتیں قبل از وقت ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں 500 گاڑیاں نیلام کیں۔ ضمنی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے احتساب کیا جائے گا تو اس کی حمایت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک پارلیمانی اقدام ہے لیکن ابھی ملک کو استحکام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میٹرو بس پراجیکٹ کا شوق سے احتساب یا آڈٹ کرے لیکن اس میں پشاور میٹرو پراجیکٹ بھی شامل کیا جائے ۔