حکومت کی خارجہ پالیسی سے پاکستان کو دھچکا لگا ،ہمیں شرمندگی اٹھانا پڑی ہے،خواجہ آصف

، بھارت کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر کے ایشو کو نہ بھولا جائے،، کوئی ملک اس طرح سے شہریت نہیںدیتا جس طرح سے وزیراعظم نے اعلان کیا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ پر آف آرڈر پر گفتگو

بدھ ستمبر 18:00

حکومت کی خارجہ پالیسی سے پاکستان کو دھچکا لگا ،ہمیں شرمندگی اٹھانا ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی سے پاکستان کو دھچکا لگا ہے اور ہمیں شرمندگی اٹھانا پڑی ہے ، وزیراعظم نے چھ ستمبر کی تقریر میں پانچ اسلامی تاریخوں کا حوالہ دیا جن میںسے تین تاریخیں غلط تھیں ، بھارت کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر کے ایشو کو نہ بھولا جائے ، ہماری حکومت نے 122 ارب روپے سے بھاشا ڈیم کیلئے زمین خریدی ، کوئی ملک اس طرح سے شہریت نہیںدیتا جس طرح سے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے جب اتحادیوںنے اس پر اعتراض تو کہا گیا کہ یہ تجویز ہے، موجودہ منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آیا ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوںنے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ پر آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جو کارکردگی خارجہ محاذ پر حکومت کی رہی ہے وہ صرف پاکستان کو خفت اٹھانے کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس سے پاکستان کے وقار کو دھچکا نہیں ہے اوراس سے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے امریکہ نے کہا ہے کہ ہم تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں بھارت نے نہ صرف پاکستان پر الزام لگایا بلکہ ایک ایک کرکے تمام الزامات لگائے اور ان تنظیموں کا نام لیکر بدنام کیا گیا ہمیں بتایا گیا کہ فرانس سے کال آئی اور ہم نے جواب نہیں دیا بھارت کے ساتھ خط و کتابت ہوئی وزیراعظم سعودی عرب گئے پارٹی کے لوگوں نے کہا کہ دس ارب ڈالر لیکر آئے ہیں پتہ نہیں ارب الف سے تھا یا ع سے پر ان تردید کی سی پیک کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو دوبارہ دیکھا جارہا ہے اس میں ستر ممالک شامل ہوچکے ہیں اس طرح کے پانچ اقتصادی راہداری کے منصوبے میں جس کی بعد میں حکومت نے تردید کرنا پڑی پاکستان میں پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے اس بجٹ کے بعد مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس حوالے سے میڈیا اور لوگ پوچھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ مہاجرین کو پاسپورٹ دیئے جائینگے جب اتحادیوں نے اس حوالے سے پوچھا تو کہا گیا یہ تجویز تھی ملک میں جتنے رجسٹرڈ ہیں اتنے ہی غیر رجسٹرڈ ہیں ان مہاجرین کو مدینہ کے مہاجرین کے ساتھ ملایا جارہا ہے میںایسا نہیںکرسکتا بلوچ مہاجرین کی وجہ سے پریشان ہیں جب کے پٹھان ان کو خوش آمدید کہتے ہیں ہم یہ بات بار بار انٹرنیشنل سطح پر اٹھائی ہے اور افغانستان سے کہا ہے کہ ان کو واپس لیتے ہیںیہ فوج میں بھرتی ہوگئے ہیں اور ایشیا کپ میںکھیل رہے ہیں کوئی ملک اس طرح سے شہریت نہیں دیتا سب سے پہلے والدین کی شہریت کا پتہ چلنا چاہیے پھر دیکھنا چاہیے اس پر حکومت نے غیر ذمہ داری کاثبوت دیا ہے وزیراعظم نے چھ ستمبر کے قومی دن پر اسلامی تاریخ کے حوالے دیئے جن میں سے تین تاریخ غلط تھیں ہمیں کلبھوشن کا طعنہ دیا گیا تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے اس پر اس طرح کا الزام لگایا گیا حمود الرحمن کمیشن میںجن لوگوں کا نام آیا وہ سب کو پتہ ہے انہوںنے کہا کہ پانی کے مسئلے کو سب حل کرنا چاہتے ہیں چیف جسٹس نے ڈیم کی بات کی ہے ڈیم کے چندے میںہماری فوج کی طرف سے ایک ارب روپے دیئے گئے ربیع کی فصل کیلئے 46فیصد پانی کی کمین ہے یہ قومی مسئلہ ہے جب تک ڈیم نہیں بنیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہماری حکومت نے 122ارب روپے سے بھاشا ڈیم کیلئے زمین خریدی گئی اگر بیس ارب روپے سالانہ رکھیں تو اس کو مکمل ہونے کیلئے نو سے دس سال لگیںگے مہمند ڈیم کیلئے بھی ہم نے کام کیا ہے اگر 3.7ارب روپے ڈیم کیلئے اکھٹا ہوا ہے بہت اچھی بات ہے 1958میں پہلی دفعہ سکردہ میں ڈیم کی پہلی سٹڈی ہوئی تھی اگر پانی کو سمندر سے گرنے سے پہلے اس کی مینجمنٹ کرلیں تو کالا باغ ڈیم کی ضرورت نہیں ہے پانی کے حوالے سے ایک اچھی پالیسی بنانی چاہیے انہوں نے کہا کہ بھارت سے ہمارے تعلقات کا انحصار کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے ہے کشمیر میںبھارت ظلم کررہا ہے ایک نسل اپنی قربانیاں دے رہی ہے بھارت سے تعلقات میں کشمیرکونہ بھولیں بھارت پاکستان میں دہشتگردوںکی پشت پناہی کرتا ہے خطرہ افغانستان سے کرے یا کسی اور جگہ سے خارجہ پالیسی پر ایسی کوئی معاہدہ نہ کیا جائے جس کے نتائج بعد میں بھگتنا پڑیں