حکومت کی میڈیا کے گلے میں پھندہ ڈالنے کی تیاریاں

آزاد میڈیا کے سب سے بڑے بینیفشری عمران خان ہیں اور آج وہی اس کے پر کاٹنا چاہتے ہیں، معروف صحافی میڈیا سے متعلق قانون میں ترمیم لانے پر عمران خان پر برہم

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 17:02

حکومت کی میڈیا کے گلے میں پھندہ ڈالنے کی تیاریاں
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔26ستمبر 2018ء) معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اگر آج میڈیا آزاد ہے تو اس آزاد میڈیا کے سب سے بڑے بینیفشری عمران خان ہیں لیکن اگر اب عمران خان کے ساتھی ان کو یہ بتائیں کہ فلاں چینل پر آپ کے خلاف بات ہو رہی تھی لیکن اب آپ کے خلاف ایسی بات نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ اب آپ وزیر اعظم ہیں۔تو عمران خان ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ اس ملک میں عدلیہ اور میڈیااگر آزاد نہیں ہوں گے اور آپ ایسا قانون لانے کی کوشش کریں گے جس سے میڈیا کا گلا دبانے کی کوشش کی جائے گی تو پھر آپ تسلی رکھیں کیونکہ آپ سے پہلے نواز شریف یہ کام کر چکے ہیں وہ اپنا چئیرمین پیمرا لائے اور پھر جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان نے بھی اپنا میڈیا سیل بنا رکھا ہے لیکن وہ مانتے نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

حالانکہ سب کی تصاویر موجود ہیں جن سے عمران خان ملاقاتیں کرتے ہیں۔اور پھر وہ اگلے دن آ کر ٹی وی پر گالم گلوچ کرتے ہیں لیکن عمران خان بہت معصوم بنتے ہیں۔اور مریم نواز بھی یہی کام کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ "میرے سوشل میڈیا کے شیرو" اور پھر ان کی ملاقات نواز شریف سے بھی کروایا کرتی ہیں۔

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ آپ بے شک میڈیا کے لیے قانون لائیں لیکن اچھی حکومتیں لوگوں سے پہلے پاور لیتی ہیں اور پھر پاور مختلف اداروں میں بانٹی جاتی ہے اور اسے طاقتور بنایا جاتا ہے لیکن نئی حکومت تو اپنے آپ کو ہی طاقتور بنانے پر تلی ہوئی ہے۔انہوں نے ابھی سے پیمرا کو کہنا شروع کر دیا ہے کہ فلاں چینل کے خلاف یہ اقدامات کرنے ہیں۔رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ دو روز قبل فواد چوہدری نے ایک بل پیش کیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس بل پر نگران وزیر علی ظفر کے دستخط تھے تا کہ کل کو کوئی تنقید کی جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت یہ کہہ سکے کہ ہم نے تو یہ بل پیش ہی نہیں کیا یہ بل تو نگران حکومت کا تھا جو ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیا۔

اس بل میں بتایا گیا ہے کہ اگر پیمرا اور انفارمیشن منسٹری یا حکومتِ وفد میں پالیسی کے معاملے پر کوئی تنازع ہوتا ہے تو اس پر آخری فیصلہ حکومت کے پاس ہو گا۔جب کہ معروف صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ میڈیا بھِڑوں کا چھتہ ہے اسے نہ ہی چھیڑیں ۔ باز ہی رہیں تو بہتر ہے۔