کالا باغ ڈیم ،مخالفت برائے مخالفت کی نذر

کالاباغ ڈیم پر لاشوں کی سیاست کرنے والے سندھ اسمبلی کے اراکین کالاباغ ڈیم کی لوکیشن سے بھی ناواقف نکلے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ ستمبر 18:59

کالا باغ ڈیم ،مخالفت برائے مخالفت کی نذر
کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-26ستمبر 2018ء) :کالاباغ ڈیم پر لاشوں کی سیاست کرنے والے سندھ اسمبلی کے اراکین کالاباغ ڈیم کی لوکیشن سے بھی ناواقف نکلے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پانی کا بحران شدید ہونے کا خدشہ ہے۔حالیہ صورتحال میں پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان بے حد متاثر ہوا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت نے نئے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاوں کا پانی روک لیا ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان میں بننے والی کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم اس حوالے سے گزشتہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایک طاقتور مہم شروع کی گئی ۔

(جاری ہے)

اس مہم کے بعد کالاباغ ڈیم کا معاملہ عدالت بھی جا پہنچا ہے اور اس حوالے سے خاصے فکر انگیز مباحثے قومی چینلز پر انعقاد پذیر ہو رہے ہیں جس میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر ،ممکنہ تنازعہ اور اسکے حل کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔

گزشتہ دنوں ملک میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث کالا باغ ڈیم کی سب سے بڑی مخالف پیپلز پارٹی نے بھی ہتھیار ڈال دینے کا عندیہ دیا تھا۔نجی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما وہاب مرتضیٰ کا کہنا تھا 1991 میں پانی کی تقسیم کا معاہدہ طے پایا تھا اگر ہمیں اس معاہدہ کے تحت سندھ کے حصے کا پانی دے دیا جائے تو ہم کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی حمایت کر سکتے ہیں۔

تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کالابغ ڈیم کو سیاست کی نذر کرنے کا ٹھان لی ہے۔اس حوالے سابق اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے ہوتے ہوئے کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا۔پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے ہمیشہ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ کالاباغ ڈیم اگر بنے گا تو ہماری لاشوں پر ہی بنے گا تاہم کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نذر کرنے والے سیاستدانوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ کالاباغ ڈیم کی اصل لوکیشن کیا ہے اور یہ کس ڈویژن میں بن رہا ہے ۔

اس حوالے سے جب نجی ٹی وی کے رپورٹرز نے سندھ اسمبلی کے اراکین سے پوچھنا چاہا کہ کالاباغ ڈیم کہاں تو اکثریت کا کہنا تھا کہ ہمیں بس اتنا پتہ ہے کہ یہ پنجاب میں ہے،کسی نے اسے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی سرحد پر بتایا تو کوئی روایتی انداز میں بولا کہ اب ہمیں کالاباغ ڈیم سے آگے بڑھ جانا چاہیے ۔ہم 30 سال سے ایک ہی کالاباغ ڈیم میں پھنسے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاستدانوں کے تاثرات دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس کالاباغ ڈیم سے متعلق جو معلومات ہیں وہ ناکافی ہیں اور یہ سیاستدان زمیںی حقائق سے ناواقف ہونے کے باوجود محض اپنی سیاست کے لیے کالا باغ ڈیم کو اچھا رہے ہیں ،آپ بھی ویڈیو ملاحظہ کریں۔