سوات میں موجود پن بجلی کے وسائل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، محمودخان

ہفتہ ستمبر 19:00

سوات میں موجود پن بجلی کے وسائل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ..
ملاکنڈ۔29 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 ستمبر2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے صوبے کو پانی جیسی بیش بہا نعمت سے نوازا ہے جس کی قلت کے خوف سے مستقبل میں جنگوں کی پیش گوئی کی گئی ہے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی ہے اور اس کا بہترین طریقہ ڈیموں کی تعمیر اور توانائی کیلئے استعمال میں لانا ہے ،پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلی بار اس قیمتی دولت سے استفادے کا ہمہ گیر پلان بنایا اور اس پر عمل شروع کیا ہے جس کی بدولت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے علاوہ ان علاقوں کو بھی بجلی کی دولت مہیا کی گئی جہاں کے لوگوں کو یہ سہولت میسر ہی نہیں تھی ، شمالی علاقہ جات خصوصاً ملاکنڈ ڈویژن کے پہاڑی سلسلوں میں قدرتی ندی نالوں اور دریائوں کے پانی سے کئی ہزار میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے صرف سوات میں موجود پن بجلی کے وسائل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے صوبائی حکومت ضلع سوات میں پن بجلی کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں 84 میگاواٹ بجلی کا مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 110 میگاواٹ کا گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بڑی اہمیت کے حامل ہیں اس کے علاوہ بجلی کی نعمت سے محروم پسماندہ علاقوں میں 40 چھوٹے بجلی گھر تعمیر کئے جا چکے ہیں جن سے عوام کو سستی ترین اور لوڈ شیڈنگ سے مبرا بجلی 24 گھنٹے فراہم کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

وہ بحرین سوات میں ہائیڈرو پاور سٹیشن درال خوڑ کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ محمودخان نے کہا کہ 36.6 میگاواٹ کے درال خوڑ پن بجلی گھر کے افتتاح سے علاقے میں سستی بجلی کی پیداوار شروع ہے اور اسے نیشنل گرڈ کے ساتھ بھی منسلک کر دیا گیا ہے اس بجلی گھر سے سالانہ تقریباً 1 ارب 20 کروڑ روپے کی آمدن ہو گی انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آتے ہی صوبے میںپن بجلی کی پیداوار کیلئے دستیاب قدرتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ سستی بجلی پیدا کی جائے اور ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے بھی نکالا جا سکے صوبائی حکومت نے توانائی ایکشن پلان پر بڑی تیزی کے ساتھ کام شروع کیا ہے جو آنے والے دنوں میں صوبے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بنیاد فراہم کرے گاانہوں نے کہا کہ ہم الله تعالیٰ کے بے حد شکرگذار ہیں کہ ہمیں اپنے عوام کی خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے کا دوبارہ موقع دیا ہے ہم عوام کی توقعات پر پورا اُترنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں صوبے کے قدرتی وسائل میں سب سے اہم آبی ذخائر ہیںپانی زندگی ہے اور یہ الله کی نعمت ہے اس عظیم نعمت کو آئندہ نسلوں کی خوشحالی سمجھ کر پلان کرنا چاہیئے اگر قدرت نے ہمیں پانی کے وافر ذخائر دئیے ہیں تو یہ دو عظیم مقاصد کیلئے آسانی سے استعمال کئے جا سکتے ہیں پہلا ناگزیر مقصد پانی سے سستی بجلی پیدا کرنا ہے اس بجلی سے گھروں کو منور کرنے کے علاوہ زراعت اور چھوٹی صنعت و تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے اسی طرح پانی کی نعمت کو سیاحت کی ترقی کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے سیاحت کو ترقی کی بنیاد بنانا اور اسے بطور صنعت متعارف کرانا پی ٹی آئی کا وژن ہے ہماری کوشش ہے کہ انہیں آبی ذخائر کو بنیاد بنا کر سوات ، ملاکنڈ اور ہزارہ میں پائے جانے والے سیاحتی مقامات کو پرکشش بنائیں تاکہ ملکی سطح پر سیاح یہاں راغب ہوں اور پھر بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی یہاں سیاحت کیلئے لایا جا سکے اگلے مرحلے پر ہماری بھر پور کوشش ہے کہ ان پرفضا وادیوں کو غیر ملکی سیاحوں کیلئے پرکشش بنایا جا سکے یہ قومی خوشحالی کی طرف ایک عملی اقدام ہے جو امن،ترقی اور یکجہتی کی کنجی بھی ہے۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کاشروع دن سے یہ عزم رہا ہے کہ عوامی استحصال کے خاتمے کیلئے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ عوام ہمارے دور میں ہی تبدیلی کے عمل کو محسوس کر سکیں آج ضلع سوات میں صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر ہونے والے صوبے کے دوسرے بڑے پن بجلی گھر کا افتتاح کرکے انہیں بڑی خوشی ہو رہی ہے جس نے باقاعدہ طور پر بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صوبائی مشیر توانائی، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو سمیت توانائی کے شعبے سے وابستہ تمام تکنیکی ماہرین کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے توانائی کے بحران کو دور کرنے کیلئے دیرپا منصوبہ بندی کی اور تیل و گیس، پن بجلی اور شمسی توانائی کے کئی منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا خصوصاً پن بجلی کے بڑے ، درمیانے اور چھوٹے منصوبوں پر تیزی کے ساتھ کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کی بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ ہم رواں سال کے آخر تک پن بجلی کے دیگر منصوبوں کو مکمل کرکے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے قابل بنے ہیں۔