پاکستان کی سعودی حکومت کو ریکوڈک منصوبہ اور ایل این جی پاور پلانٹس میں اربوں ڈالر ز کی سرمایہ کاری کی پیشکش

اعلی سطحی سعودی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

اتوار ستمبر 21:10

پاکستان کی سعودی حکومت کو ریکوڈک منصوبہ اور ایل این جی پاور پلانٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 ستمبر2018ء) پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے پاک،چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں مثبت جواب ملنے پر سعودی حکومت کو ریکوڈک منصوبہ اور ایل این جی پاور پلانٹس میں اربوں ڈالر ز کی سرمایہ کاری کی پیشکش کردی ہے۔اس سلسلے میں اعلی سطحی سعودی وفد پانچ روزہ دورہ پر آج (اتوار) اسلام آباد پہنچ گیا ۔

سعودی عرب ، پاکستان کو تیل اور مالی امداد د ے گا۔ انتہائی اہم ذرائع کے مطابق سعودی وفد کی پاکستان آمد پر دونوں ممالک کے مابین مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے مابین گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام اور پاکستان کو تاخیر ی ادائیگیوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہم سمیت 5ایم او یوز پر دستخط متوقع ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سعودی عرب ، پاکستان میں بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے میں سونے اور تانبے کی تلاش میں مدد ، ایل این جی پلانٹس کی نجکاری سمیت پاکستان کو فاسفیٹک کھاد کی فراہمی کے منصوبوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

سعودی وفد اپنے دورہ پاکستان کے دوران گوادر پورٹ اور ریکوڈک منصوبے کا دورہ بھی کرے گا۔ سعودی عرب کا اعلی سطحی وفد سعودی وزارت خزانہ اور سرمایہ کاری پر مشتمل ہوگا جو وزیر خزانہ اسد عمر اور دیگر اعلی حکام کے ساتھ ملاقا ت کرے گا۔ دورہ پاکستان کے دوران اہم سعودی وفد گوادر اور آئل کی تعمیر کا بھی جائز ہ لے گا۔ ذرائع کے مطابق سعودی وفد کی قیادت وزارت پاور ، انڈسٹری اور قدرتی وسائل کے مشیر احمد حمید الغامدی کررہے ہیں۔

واضع رہے کہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خا ن کے پہلے غیر ملکی دورہ سعودی عرب کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کے مابین اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا ۔ عمران خان نے سعودی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی تھی۔ پاکستان کو فوری طور پر آئی ایم ایف کے پروگرام سے بچنے کیلئے کم ازکم 2ملین ڈالر کے ادھار پر تیل اور مالی امداد کی ضرورت ہے۔ جبکہ قرضوں کی ادائیگی اور درآمدات کے بل کیلئے رواںمالی سال میں گیا رہ بلین ڈالر درکار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔