حکومت نان فائلر کو چھوٹ دے رہی ہے ،ْ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کا ضمنی مالیاتی بل پر تحفظات کا اظہار

بدھ اکتوبر 17:20

حکومت نان فائلر کو چھوٹ دے رہی ہے ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اکتوبر2018ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے ضمنی مالیاتی بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دعوئوں پراعتبارکرتے توملک میں اندھیرے ہوتے ،ْحکومت نان فائلر کو چھوٹ دے رہی ہے ،ْ ترقیاتی بجٹ پر31 فیصد سے زیادہ کٹوتی لگائی گئی ،ْکنسٹرکشن سے وابستہ صنعتیں بری طرح متاثر ہوںگی‘ وزیر خزانہ اعلان کریں کہ ہم گھاس کھائیں گے ،ْ قرضہ نہیں لیں گے ،ْ 20 ارب ڈالر حکومت کو خسارہ پورا کرنے کیلئے چاہئیں ،ْ پی ایس ڈی پی میں کٹوتی سے ملک کے غریب طبقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل 2018ء پر اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ وزیرخزانہ نے لوڈشیڈنگ کا توکچھ نہیں بتایا اورٹرانسمیشن لائن پرچلے گئے،پی ٹی آئی کے دعووں پراعتبارکرتے توملک میں اندھیرے ہوتے۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ اگراسدعمر یہ سچ بتادیتے کہ مسلم لیگ (ن )کی حکومت میں لوڈشیڈنگ کی کیا صورتحال تھی، لیڈرآف دی ہائوس نے دوہزارتیرہ میں جو اعلانات کیے تھے ان پربھروسہ کرتے توملک تاریکیوں میں ڈوب جاتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خزانہ مسکرا رہے ہیں شاید ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے ‘‘ والی بات ہے یا میری بات کی تائید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں پی ٹی آئی نے قوم سے جو وعدہ کیا تھا کہ کے پی کے کے بجلی پیدا کرنے کے پوٹینشل کا فائدہ اٹھا کر پورے کے پی کے اور پاکستان کو بجلی دیں گے انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کو بجلی مہیا کرنا تو دور کی بات کے پی کے میں نیٹ منفی 6 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔

اگر ہم قائد ایوان کے وعدے پر تکیہ کرتے تو پاکستان میں آج 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پی ایس ڈی پی 800 ارب روپے کا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 31 مارچ کو پابندی لگا دی کہ ترقیاتی پیسہ خرچ نہیں ہو سکے گا تو فنڈز کا استعمال اور اندراج کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ ای سی پی پابندی نہ لگاتا تو یہ پیسہ لگتا۔ سچ یہ ہے کہ ملک کی 71 سالہ تاریخ میں چین اور پاکستان کے درمیان جو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فنانسنگ ہوئی اور اس کے علاوہ جو سرمایہ کاری آئی‘ اس میں بڈنگ نہیں ہوئی تھی یہ کریڈٹ ہمیں جاتا ہے کہ جی ٹی جی فنانسنگ میں بڈنگ پراسیس شروع کیا اب ملک کے مفادات کا ہر حکومت تحفظ کر سکے گی۔

یہ ہماری حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بجلی کے یہ منصوبے مکمل کئے گئے‘ سی پیک کے منصوبے لگے بلکہ نیلم جہلم جیسے منصوبے بھی مکمل کرائے گئے۔ 18/19 سال قبل اس کا آغاز ہوا تھا اور اربوں روپے اس کی لاگت بڑھی ۔وزیر خزانہ قوم کو بتاتے کہ ہم اس کا آڈٹ کرائیں گے تو پورا ایوان ان کی تائید کرتا۔ میں نہیں کہتا کہ ہمارے 160 ارب روپے کی بچت کرنے کی آپ تعریف کریں لیکن ہم نے 20,20 سال سے رکے منصوبے مکمل کرائے ان کے رکنے کا آپ یہاں اعلان کرتے۔

ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے‘ محاصل بڑھانے اور ترقی کے منصوبوں کے لئے حکومت کی حمایت کریں گے لیکن دروغ گوئی سے ہمارے اور پی پی پی میں فاصلے پیدا کرنے کی کوشش ناکام ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ سینیٹ کی سفارشات اس لحاظ سے اہم ہوتی ہیں کہ وہ وفاقی اکائیوں کی یکجہتی کی نمائندگی کرتی ہیں‘ اس لئے حکومت کو ان سفارشات کو اہمیت دینی چاہیے‘ سینیٹ نے بجٹ میں ٹیکس فائلرز کی حوصلہ افزائی کرنے اور نان فائلرز کی حوصلہ شکنی کیلئے سفارش کی تھی، اس حوالے سے جو اقدام کیا تھا اسے بحال کیا جائے، حکومت نے منی بجٹ میں نان فائلرز کو جو رعایت دی ہے اسے واپس لیا جائے، اس کا مقصد آٹو اور رئیل سٹیٹ مافیا کو خوش کرنا ہے، نیب تحقیقات کرے کہ کون لوگ نان فائلرز کیلئے اتنی بڑی رعایت میں ملوث ہیں، اب محض اسے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے رعایت قرار دینا درست نہیں۔

ایف بی آر نے اس کا انتظام تو پہلے سے کر دیا تھا ہم سینیٹ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں کہ ٹاپ ریٹ کو 20 فیصد کیا جائے اس سے ریونیو بڑے گا کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آنا چاہیں گے، بجٹ میں خام مال کے نام پر امپورٹ ڈیوٹیوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ اس کا تعین کیسے کیا جائے گا اس سے امپورٹ کی حوصلہ افزائی ہوگی، مقامی صنعتکاروں کو نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں 100 دن کے ایجنڈا کو نافذ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، بجٹ میں نان فائلرز کو بیل آئوٹ پیکج کے سوا کچھ نہیں، 31 فیصد سے زیادہ ترقیاتی بجٹ پر کٹوتی لگائی گئی ہے۔ بجٹ میں پاکستان کے دفاع کے بجٹ کو ایک ٹریلین کرنے کی خوشی ہے کیونکہ بھارت ہمارے لئے خطرہ بنا ہوا ہے، ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر کرنے کے لئے ڈیفنس‘ ڈیموکریسی اور ڈویلپمنٹ تینوں ڈی ضروری ہیں، ہمیں انوویشن اکانومی بننے کے لئے نالج اکانومی کی بنیاد رکھنی ہے۔

پی ایس ڈی پی میں ہائیر ایجوکیشن کے بڑے بڑے منصوبوں کو ختم کردیا کیا گیا ہے۔ کئی یونیورسٹیوں کے منصوبوں پر کٹ لگایا گیا ہے۔ سنٹر فار ہیومن نیوٹریشن کے بجٹ پر بھی کٹ لگا دیا گیا ۔ نیشنل یونیورسٹی آف سپورٹس کے منصوبے کو بھی روک دیا گیا۔ ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا اور لوڈشیڈنگ ختم کی۔ 20 ارب ڈالر حکومت کو خسارہ پورا کرنے کیلئے چاہئیں۔

اجلا س کے دور ان انہوںنے کہاکہ آپ نے اسد عمر کو 45، 45 منٹ موقع دیا ، جناب اسپیکر !آپ کے پی سے تعلق رکھتے ہیں جو کھلے دل والے ہوتے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں قوم کو تباہی سے آگاہ کررہا ہوں ، میں ہیر رانجھا کی کہانی بیان نہیں کررہا۔ضمنی مالیاتی بل پر بحث کے دوران سید نوید قمر نے کہا کہ سینیٹ نے جو تجاویز دی ہیں انہیں ضمنی مالیاتی بل میں شامل کرنا چاہیے‘ سینیٹ کی تجاویز کے مطابق ٹیکسیشن کے قانون کی وضاحت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جو ٹیکس ٹیبل دیا گیا ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اور مالاکنڈ کے لئے ٹیکسیشن کی مد میں جو مراعات دی گئی تھیں اور جو ٹائم ٹیبل مرتب کیا گیا ہے اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جب فاٹا کے لئے قانون سازی ہو رہی تھی تو اس وقت پانچ سال کے لئے فاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بھی ٹائم فریم کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی بعض تجاویز اور سفارشات گوادر سے متعلق ہیں۔ ایوان بالا کی تجاویز کے مطابق پی ایس ڈی پی میں گوادر کی ترقی کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ضمنی مالیاتی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل میں عملی طور پر وہ اقدامات نہیں کئے گئے جن کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا۔ جی ڈی پی کی شرح 5.3 فیصد ہے جبکہ معیادی جی ڈی پی کی شرح سات سے اوپر ضروری ہے۔

صحت/ تعلیم اور بنیادی ضروریات کی فراہمی سے جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح برآمدات میں اضافہ کرکے معیشت کو ترقی دینا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں کٹوتی سے ملک کے غریب طبقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح گیس‘ بجلی اور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ سے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے باجوڑ سے جنوبی وزیرستان تک شاہراہ کی تعمیر سمیت انڈس ہائی وے کی مرمت و بحالی کے لئے اقدامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جب پچھلے پانچ سال کی آپ بات کرتے ہیں تو اس سے پچھلی پانچ سال کی بات بھی ہوگی۔ وزیر خزانہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ 2013ء میں جب حکومت ختم ہوئی تو اس وقت کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2.5 ارب ڈالر اور اب 22 ارب ڈالر ہے لیکن جس طریقے سے آپ نے سٹارٹ لیا ہے یہ درست نہیں ہے۔ جب ہم نے حکومت لی تو ملک میں اندھیرے تھے۔ اس وقت خام تیل کی قیمت 144 تھی اور ہم چار روپے فی یونٹ بجلی دے رہے تھے۔

سی پیک کی بات ہوئی ہے کہ زرداری ہر 15 دن بعد چین کیوں جاتے ہیں۔ آپ تسلیم کریں کہ سی پیک کے معمار ہم ہیں۔ صرف نیلم جہلم نہیں تمام منصوبوں کا فورنزک آڈٹ کریں، ہم اس حوالے سے قرارداد لاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ الزام اور دشنام ترازی پارلیمانی آداب کے منافی ہے۔ ہم لوگ خود اس ایوان کو بے توقیر کرتے ہیں ،ْکمیٹی بنائی جائے اور کرپشن کرنے والوں کو سزا دی جائے۔