سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس

ڈیمڈ ڈیوٹی،مقامی ریفائنریز پر اخراجات ،آئل کی پیداوار اور ترسیل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا

بدھ اکتوبر 20:25

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 اکتوبر2018ء) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کے زیر صدارت اٹک آئل ریفائنری لمٹیڈمورگاہ راولپنڈی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔قائمہ کمیٹی کے ارکان نے اٹک آئل ریفائنری لمٹیڈ کا دورہ بھی کیا اور ڈیمڈ ڈیوٹی،مقامی ریفائنریز پر اخراجات ،آئل کی پیداوار اور ترسیل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا ۔

قائمہ کمیٹی کو سی ای او اٹک آئل ریفائنری لمٹیڈ اور ایم ڈی پاکستان آئل ریفائنری لمٹیڈ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کل 5 آئل ریفائنریاں کام کر رہی ہیں جن کی تیل تیار کرنے کی استعداد 19 ملین بیرل یومیہ ہے جبکہ وہ 13 ہزار ملین بیرل تیار کر رہی ہیں اور ملک کی مجموعی طلب26 ہزار بیرل یومیہ ہے بقیہ آئل ایمپورٹ کیا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

کسی بھی ملک میں ریفائنری گیپ کو کم سے کم ہونا چاہیے 5 ریفائنریز ملک کی طلب کیلئے ناکافی ہیں مزید ریفائنریوں کا قیام ناگریز ہے تاکہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جا سکے ۔ اٹک آئل ریفائنری پاکستان کی پہلی بڑی ریفائنری ہے۔ جہاں 53ہزار بیرل تیل یومیہ کر وڈ آئل سے تیار کیا جاتاہے۔ یہ ریفائنری 1960 ء میں قائم کی گئی تھی ۔ پاکستان آئل ریفائنری 1962 میںقائم کی گئی جس کی کپیسٹی50 ہزار بیرل ہے ۔

نیشنل ریفائنری 65 ہزار یومیہ تیار کر رہی ہے جو 1963 میں قائم کی گئی ۔ پاکستان کی سب سے بڑی پارکو ریفائنری جس کے 60 فیصد پاکستان کے شیئر اور 40 فیصد ابوظہبی کے شیئر ہیں ۔ اٹک ریفائنری 100 فیصد ملکی کروڈ آئل سے پیٹرولیم مصنوعات تیار کرتی ہے باقی ریفائنریز 80فیصد کروڈ آئل ایمپورٹ کرتی ہیں ۔4 ریفائنریز پوری استعداد سے کام کر رہی ہیں ایک ریفائنری بائیوکو کے کچھ مسائل ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سعودی حکومت کے تعاون سے گوادر میں ایک ریفائنری قائم کی جائے گی اور بلوچستان کے علاقہ حب میں ایک ریفائنری قائم کی جائے گی جس کی یومیہ پیداوار 2.5 لاکھ بیرل ہوگی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جیٹ آئل مقامی ریفائنریز تیار کر رہی ہیں اگر وہ تیار نہ کریں تو دفاع کے شعبے میںتیل نہیںملے گا۔ ریفائنری سیکٹر میں منصوبہ بندی طویل عرصہ کیلئے کی جاتی ہے ۔

انڈیا اور یورپ میں 16 سال کی منصوبہ بندی ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں ایڈہاک ازم پر کام کر رہے ہیں ۔ایک ریفائنری لگانے میں 5 سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور ایک لاکھ بیرل یومیہ کی ریفائنری لگانے پر 2.5 ملین ارب ڈالر خرچ آتا ہے ۔ سینیٹر تاج محمدآفریدی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ آئل کا معیار دنیا کے معیار کے تقریباً برابر ہے اور پاکستان انڈیا کے برابر کے معیار کا تیل پیدا کر رہا ہے ۔

500 پی پی ایم معیار ہے ۔ سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کہا کہ پاکستان90 کی دہائی میں پیڑول ایکسپورٹ کرتا تھا بد قسمتی کی بات ہے 20 سال بعد بھی ہم پیٹرولیم پالیسی پر عمل نہیںکر سکے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیزل کی 45 فیصد طلب ایمپورٹ کی جاتی ہے بقیہ ملکی ریفائنری تیار کر رہی ہیں ۔ جیٹ فیول 100 فیصد ملکی ریفائنری سے تیار ہوتا ہے موٹر گیسولین اور فرنس آئل 30 فیصد ملکی ضرورت کا تیار کیا جاتا ہے جبکہ70 فیصد ایمپورٹ کیا جاتا ہے ۔

کمیٹی کو ایم ڈی پاکستان ریفائنری لمیٹیڈ نے بتایا کہ 3 ملکی ریفائنریز سے پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے سے 2018 میں 346 ملین ڈالر ایف ای ایکس کی مد میں بچایا گیا ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1987-88 تک ملک میں ریفائنری پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو 12.5 فیصد ریٹرن کیا جاتا تھا بعد میں 15 فیصد سے بڑھا کر18 فیصد کر دیا گیا ۔ 1992-93 میں پی پی آئی فارمولا متعارف کرایا گیا آئل ایمپورٹ پر13 فیصد ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے جو قیمت کا حصہ ہوتی ہے اور جب ریفائنریز اپنا آئل تیار کرتی ہیں تو یہ ڈیوٹی نہیں ہوتی۔

ملک میں7.5 فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی عوام سے وصول کی جاتی ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2002 سی2018 تک اٹک ریفائنری لمیٹیڈ نے 36,951 ملین روپے کی ڈیمڈڈیوٹی اکھٹی کی ۔ پاکستان ریفائنری لمیٹیڈ نے 37627 اور نیشنل ریفائنری لمیٹیڈ نے 52524 ملین کی ڈیم ریفائنری اکھٹی کی ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ڈیمڈ ڈیوٹی کا مقصد ریفائنریز کی اپ گریڈیشن تھا ڈیمڈ ڈیوٹی کی مد میں عوام سے اربوں روپے اکھٹے کیے گئے مگر آئل ریفائنری کو اپ گریڈ نہیںکیا جس سے عوام کو فائدہ ہوتا دنیا یورو فور پر پہنچ چکی ہے اور پاکستانی ریفائنری یورو ٹو پر ہے ۔

ملک میںنئی آئل ریفائنریز کا قیام بھی ناگریز ہے جس سے عوام کو بھی فائدہ ہو سکے ۔ڈیمڈڈیوٹی کے حوالے سے عوام کے ساتھ جو نا انصافی ہو رہی ہے اس کو ختم ہونا چاہیے اور قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ1997 میں بننے والی آئل پالیسی کا اس حوالے سے از سر نو جائزہ لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر سسٹم کو ٹھیک کر لیا جاتا تو عوام پر اتنے اثرات نہ مرتب ہوتے۔

انہوں نے کہا ڈیمڈ ڈیوٹی کا سلسلہ کب سے شروع ہوا اورکب ختم ہوگا یہ ہمیشہ کیلئے عوام پر بوجھ نہیں رہنا چاہیے اس حوالے سے وزارت پیٹرولیم اور آئل ریفائنریز تجاویز کمیٹی کو فراہم کریں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل ریفائنری کا کام معیاری تیل بروقت عوام تک پہنچانا ہے اگر ڈیمڈ ڈیوٹی نہ ہوتی تو اب تک تمام ریفائنریز بند ہوچکی ہوتیں۔سینیٹرز ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، میر کبیر احمد محمد شاہی اور بہرامند خان تنگی نے کہا کہ ڈیمڈ ڈیوٹی کو کم یا ختم کرنے کیلئے پہلے حکومت کی رائے حاصل کی جائے ۔

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل ، میر کبیراحمد محمد شاہی ، لیفٹینٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی، شمیم آفریدی ، عطاالرحمن، تاج محمد آفریدی ، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی اور بہرا مند خان تنگی کے علاوہ سی ای او اٹک ریفائنری،منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ریفائنری ، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ریفائنری ،ڈائریکٹر وزارت پیٹرولیم اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔