حوصلہ رکھیں! میں آپ کو اس مشکل سے نکال لوں گا

جو اصلاحات ہم کررہے ہیں اس کے اثرات چھہ ماہ بعد سامنے آئیں گے،دس سے بارہ رب ڈالر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے دو راستے ہیں دوست ممالک یا پھر آئی ایم ایف، حکومت کو 18 ارب ڈالر کا خسارہ پچھلی حکومت سے تحفے میں ملا ہے۔ وزیراعظم عمران خان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ اکتوبر 16:48

حوصلہ رکھیں! میں آپ کو اس مشکل سے نکال لوں گا
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10اکتوبر 2018ء) وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے بے دردی سے قرضے لئے۔ آج ہمیں قرضے کی قسط واپس کرنے کے لیے مزید کردہ چاہیے۔ملکی قرض 6000 ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جو اصلاحات ہم کررہے ہیں اس کے اثرات چھہ ماہ بعد سامنے آئیں گے۔حکومتی اصلاحات کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔ہر سال دس ارب ڈالر کی پاکستان میں منی لانڈرنگ ہوتی۔تیس ارب روپے کی ترسیلات زر پاکستان میں ہر سال آتی ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کو 18 ارب ڈالر کا خسارہ پچھلی حکومت سے تحفے میں ملا ہے۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔آنے والے دنوں میں پاکستان کے پاس اتنے ڈالرز نہیں ہیں کہ قرضوں کی قسطیں واپس کی جاسکے۔ہمیں قرضہ اس لئے چاہیے کہ قرضہ کی قسطیں ادا کریں.دس سے بارہ رب ڈالر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے دو راستے ہیں۔دوست ممالک یا پھر آئی ایم ایف۔عمران خان نے کہا کہ حوصلہ رکھیں گھبرانے کی بات نہیں ہے۔کچھ عرصہ مشکل دور سے گزرنا پڑے گا۔

لیکن میں پاکستان کو اس مشکل دور سے نکالوں گا۔مشکل وقت کے بعد اچھا وقت آئے گا مطمئن رہیں آپ کو مشکل وقت سے نکال لوں گا۔خیال رہے اس سے قبل عمران خاننے پارٹی رہنمائوں کو ہدایت کی تھی کہ میڈیا اور عوام کو بتائیں کہ گزشتہ حکومت کی غلط پالیسیوں نے کون کون سی مشکلات پیدا کردی ہیں جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سمیت بعض مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں لیکن یہ واحد حکومت ہوگی جو اپنے اقدامات اور پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالے گی ۔ عمران خان پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے آغاز اور افتتاح کے حوالے سے بھی پارٹی رہنمائوں کو اعتماد میں لیا اور بتایا گیا کہ یہ گھر ان غریب لوگوں کو دینے ہیں جو غربت کے باوجود اپنی چھت کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔