وزیراعظم نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے،

حکومت اپوزیشن کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے، حکومت عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کرے گی، سانحہ ماڈل ٹائون میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی کو کارروائی کا کہا جس پر 10 دن گزرنے کے باوجود آئی جی پنجاب نے عمل نہیں کیا، بیورو کریسی کو عوامی نمائندگی کا احترام کرنا ہوگا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

بدھ اکتوبر 21:13

وزیراعظم نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لئے اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے، حکومت اپوزیشن کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے، حکومت عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کرے گی، وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو سانحہ ماڈل ٹائون کے حوالے سے کارروائی کرنے کا کہا تھا، بیورو کریسی کو عوامی نمائندگی کا احترام کرنا ہوگا۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ ایک یونین بنا دی جائے اور ایک دوسرے کی چوریوں کا تحفظ کیا جائے، ہم یہ نہیں ہونے دیں گے، عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کریں گے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات سے پہلے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ چوروں کا احتساب کریں گے، اس لئے ان کا احتساب جاری رہے گا، اگر کسی کو اچھا لگے یا برا، عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو کارروائی کا کہا تھا جس پر 10 دن گزرنے کے باوجود آئی جی پنجاب نے عمل نہیں کیا۔ بیورو کریسی کو عوامی نمائندگی کا احترام کرنا ہوگا، ملک کے اندر معاشی بحران جاری ہے جس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کس کس نے ملکی معیشت کو تباہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ناصر درانی نے اپنا استعفیٰ خرابی صحت کی بنیاد پر دیا ہے، بیورو کریسی سمجھ رہی ہے کہ ملک ہم نے چلانا ہے لیکن عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، کسی دوسرے کو مینڈیٹ نہیں دیا، وزراء کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے افسران کا انتخاب کریں جبکہ حکومت کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹر لگائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور چین کے اپنے اپنے مفادات ہیں لیکن ہم نے اپنے مفادات کو لے کر آگے چلنا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو حکومت نے نہیں پکڑا بلکہ قومی احتساب بیورو نے گرفتار کیا ہے، وہی اسے چھوڑ سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران ہزاروں کنال جگہ واگذار کروائی گئی ہے، اسے اب گھر سکیم کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے ایک اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کے بحران کی ذمہ داری کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، جو اس حوالے سے تحقیقات کر کے مجرموں کا تعین کرے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی ذمہ دار افسر لگانے کے حق میں تھے، انہیں کسی سے کسی قسم کا لالچ نہیں، وہ اچھی شخصیت کے مالک ہیں۔