وزیراعظم نے 10سال میں حاصل کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات مانگ لیں

10 برس میں قرض 6ہزار سے 30 ہزار ارب ہوگیا، قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا وفاقی کابینہ تفصیلی رپورٹ دے. عمران خان کا وفاقی کا بینہ کے اجلاس سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اکتوبر 14:06

وزیراعظم نے 10سال میں حاصل کیئے گئے قرضوں کی تفصیلات مانگ لیں
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 11 اکتوبر۔2018ء) وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دس سال کے دوران مختلف منصوبوں پر خرچ ہونے والے قرض کی تفصیلی رپورٹ مانگ لی ہے. وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیے جانے کا امکان ہے.

انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 برس میں قرض 6ہزار سے 30 ہزار ارب ہوگیا،گزشتہ دس سال میں لیا گیا قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا،وفاقی کابینہ تفصیلی رپورٹ دے. انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے جو منصوبے بنائے انہیں چلانے کے لیے مزید قرضے چاہیئں. انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ اہم پراجیکٹ ہے،ون ونڈوآپریشن سے منصوبہ شروع کررہے ہیں، منصوبے کی تکمیل سے نمایاں بہتری آئےگی.

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معیشت سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے. اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے گزشتہ 10 سال کے قرضوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومتیں قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھاگئیں، وزارت خزانہ سے 10 سال کے قرضوں کی تفصیلات طلب کی ہیں، تاکہ معلوم ہوسکے کہ گزشتہ حکومتوں نے کیسے ملک پر قرضوں کا بوجھ ڈالا ہے اور قرضوں سے کون سے ڈیم اور بڑے منصوبے بنے.

عمران خان نے کہا کہ پاکستان پر 10 سال میں قرضوں کا بوجھ 6 سے بڑھ کر 30 ہزار ارب ہوگیا ہے، اس کا تفصیلی تخمینہ چاہیے کہ یہ پیسہ کہاں اور کن منصوبوں پر خرچ ہوا، اس کے نتیجے میں موجودہ حکومت 10 بار سوچے گی کہ اگر ہم قرضے لیں تو اس سے اتنا پیسہ اکٹھا ہو کہ قرضہ واپس کیا جاسکے. انہوں نے کہا کہ اپنا گھر اتھارٹی ون ونڈو آپریشن ہوگا جس سے معیشت مضبوط، روزگار میں اضافہ اور نئی تعمیراتی کمپنیاں کھلیں گی.

کابینہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں مختلف افراد نام ڈالنے اور نکالنے کے معاملے پر غور کیا جائے گا. اجلاس میں مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال کے تقرر کی منظوری دی جائے گی جبکہ چیئرمین نجکاری کمیشن، چیئرمین پی آئی اے اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے تقرر پر بھی بات چیت ہوگی. وفاقی کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے یوریا کی درآمد پر قواعد میں نرمی کا جائزہ لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

عطیے میں ملنے والی چار گاڑیوں پر ٹیکسوں کی چھوٹ کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے.