شہبازشریف کےدامادعمران علی کی جائیداد کی قرقی کا حکم

احتساب عدالت نے دیگر شیئر ہولڈرزکیخلاف نیب کوکاروائی سے روک دیا، علی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم نیب کو دیا ہے،علی عمران کے نام کروڑوں مالیت کی جائیداد ہے

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات اکتوبر 15:10

شہبازشریف کےدامادعمران علی کی جائیداد کی قرقی کا حکم
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اکتوبر 2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دامادعلی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا ہے، تاہم عدالت نے دیگر شیئر ہولڈرزکیخلاف نیب کوکاروائی سے روک دیا ہے، احتساب عدالت نے علی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم نیب کو دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت میں علی عمران کی جائیداد کی قرقی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کے داما د علی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا ہے۔نیب نے علی عمران کیخلاف صاف پانی کمپنی کیس میں تحقیقات کی تھیں۔ جس پر نیب نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ علی عمران کو اشتہاری قرار دیا جائے اور ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم بھی صادر کیا جائے۔

(جاری ہے)

علی عمران پچھلی کچھ پیشیوں میں عدالت میں پیش نہیں ہورہے تھے۔

جس پر نیب نے عدالت کو درخواست کی تھی۔تاہم احتساب عدالت کے جج محمد اعظم نے علی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا ہے۔نیب نے احتساب عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمران علی اشتہاری قرار اور جائیدادیں ضبظ کرنے کا حکم دیا جائے۔جس پر احتساب عدالت نے علی عمران کی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے دیگر شیئر ہولڈرزکیخلاف کاروائی سے روک دیا۔

علی عمران کے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداداورپارٹمنٹس ہیں۔علی عمران کے علی سنٹر میں دفاترز ہیں۔علی عمران کو نیب نے صاف پانی کمپنی کیس میں طلب کرکے تحقیقات کی تھیں۔ دوسری جانب نیب نے شہبازشریف کے صاحبزادے سلمان شہباز سے اثاثوں، بینک اکاﺅنٹس سمیت آمدن اور اخراجات کی تمام تفصیلات مانگ لیں جبکہ بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں ہیں۔

نیب لاہور نے شہبازشریف کے صاحبزادے سلمان شہبازسے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور تمام اثاثوں،بینک اکاﺅنٹس سمیت آمدن اور اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں جبکہ بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلی کے بیٹے کو پروفارما دیتے ہوئے کہا گیا ہے وہ مختلف کلبوں کی رکنیت ،مختلف کمپنیوں اور زرعی زمین کی آمدن کی تفصیلات جمع کرائیں۔ نیب نے میڈیکل سمیت تمام اخراجات اور گھریلو ملازمین کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔