ٹویٹر صارف کا فیصل ایدھی پر جنسی ہراسگی کا الزام، فیصل ایدھی نے الزام کو مسترد کر دیا

یہ ایک جھوٹی اوربے بنیاد کہانی ہے، میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں۔ فیصل ایدھی کا رد عمل

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اکتوبر 16:48

ٹویٹر صارف کا فیصل ایدھی پر جنسی ہراسگی کا الزام، فیصل ایدھی نے الزام ..
کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 اکتوبر 2018ء) : ٹویٹر صارف کی جانب سے فیصل ایدھی پر جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد فیصل ایدھی کا رد عمل بھی آ گیا ۔ تفصیلات کے مطابق عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبد الستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ کہ جھوٹی کہانی ہے، میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں ہوں۔

اور نہ ہی مجھے اتنا یاد ہے کہ میری اس سے کبھی ملاقات ہوئی ہو۔ فیصل ایدھی نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اوپر عائد جنسی ہراسگی کے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ مذکورہ لڑکی کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق اس لڑکی نے میرے والد کے بارے میں بھی 2014ء میں ایسا ہی بیان دیا تھا اور ان پر بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے تھے۔

(جاری ہے)

یہ سب باتیں ایدھی فاؤنڈیشن کو بدنام کرنے کی سازش ہیں۔یاد رہے کہ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک خاتون صارف عروج ضیاء نے عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبد الستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا تھا۔ اپنے ٹویٹ میں عروج ضیاء نے کہا کہ مجھے عبد الستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی، جو اب ایدھی فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں، نے ہراساں کیا اور یہ تب کی بات ہے جب میری عمر 22 سے 23 سال تھی۔

عروج ضیاء نے کہا کہ اب تک صرف میرے شوہر ہی واحد شخص ہیں جن کو اس کا علم تھا۔ میں نے کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا لیکن اب مجھے لگا کہ سب لوگوں کو اس کا علم ہونا چاہئیے۔
یہ سب تب ہوا جب میں ایک نوجوان لڑکی تھی اور مجھے اس سب کے بارے میں آگاہی بھی نہیں تھی۔ اُس وقت مجھے لگا کہ شاید میری ہی کسی حرکت سے انہیں لگا ہو کہ میں نے انہیں متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے یہ سمجھنے میں کافی عرصہ لگا کہ اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔

عروج ضیاء نے بتایا کہ وہ اُس وقت کراچی کی کمیٹی پارٹیز کی ممبر تھیں۔
ہماری پارٹی کے لیے فنڈز کی کمی ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ فیصل ایدھی ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، پارٹی کی جانب سے مجھے فیصل ایدھی سے ملاقات کرنے کو کہا گیا کیونکہ میرا دفتر فیصل ایدھی کے ٹاور سینٹر سے قریب تھا۔ اُس وقت میں دی نیوز میں رپورٹر تھی۔

میں 6 بجے کے قریب ایدھی سینٹر پہنچی جہاں میں نے فیصل ایدھی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران فیصل ایدھی خاصی تہذیب سے پیش آئے تھے۔ ہم نے مل کر کام کرنے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات ختم ہونے پر میں واپسی کے لیے اپنی نشست سے اُٹھی تو فیصل ایدھی نے مجھ سے دیارفت کیا کہ میں کس طرح آفس پہنچوں گی ؟ جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ میں یا تو ٹیکسی لوں گی یا پھر رکشہ، اگر کچھ بھی نہ ملا تو پیدل ہی چلی جاؤں گی، مجھے یہاں سے پیدل دفتر جانے میں صرف 15 منٹ لگیں گے جس کے بعد فیصل ایدھی نے مجھے دفتر تک چھوڑنے کی پیشکش کی۔

میں نے بھی حامی بھر لی کیونکہ فیصل ایدھی عمر میں مجھ سے کئی سال بڑے تھے۔ انہوں نے ملاقات کے دوران بھی تہذیب اختیار کی لہٰذا مجھے ان کی پیشکش ٹھُکرانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ انہوں نے فنڈز کے معاملے پر مزید تبادلہ خیال کے لیے میرا نمبر مانگا جس پر میں نے ان کو نمبر بھی دے دیا۔ انہوں نے اپنا سوزوکی ڈبہ نکالا اور میں ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ، کچھ ہی دیر میں ہم میرے دفتر پہنچ گئے۔

گاڑی سے اُترتے ہوئے فیصل ایدھی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا میں نے بھی ایک اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور مصافحہ کیا۔ مصافحہ کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ فیصل ایدھی نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ کر مجھے واپس گاڑی کے اندر کھینچنے کی کوشش کی۔ میں گاڑی سے تقریباًباہر ہی تھی اسی لیے میں یہ اندازہ کرنے میں ناکام رہی کہ آخر فیصل ایدھی کا ارادہ کیا ہے۔

جب انہوں نے زرو زبردستی سے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے غصے میں اپنا ہاتھ چھُڑوایا اور دفتر کے گیٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔ میرا دفتر مجھے اس وقت سب سے محفوظ پناہ گاہ محسوس ہوئی۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ شاید مجھے غلط لگا ہو، ہو سکتا ہے کہ میں نے غلط تاثر لیا ہو۔
ہو سکتا ہے فیصل ایدھی اس بات کو یقینی بنا رہے ہوں کہ میں بحفاظت اُتر گئی ہوں کیونکہ وہ فیصل ایدھی تھے اور میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اس قسم کا کوئی نامناسب سلوک کر سکتے ہیں۔

لہٰذا میں نے اپنی سوچوں کے دریچے کو بند کیا اور سوچا کہ فیصل ایدھی جیسے نہایت نفیس اور بے لوث انسان ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔
لیکن یہ تو شروعات تھی ، دو سے تین دن کے بعد فیصل ایدھی نے آدھی رات کو تقریباً 2،3 بجے مجھے پیغامات بھیجنا شروع کر دئے۔ اور ان پیغامات کا کام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
اُس وقت میری ماہانہ تنخواہ بھی کم تھی ، مجھے ماہانہ 30 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی، اسی لیے میں فیصل ایدھی کے کسی غیر متعلقہ پیغام کا جواب دے کر اپنا موبائل بیلنس ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔

مجھے تب تک اندازہ نہیں ہوا کہ فیصل ایدھی کا رویہ نازیبا ہے، اگلے دن میں دفتر جانے کے لیے تیار ہو ہی رہی تھی کہ 4 بجے مجھے فیصل ایدھی کی کال آئی اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ان سے ناراض ہوں؟
مجھے ان کے اس سوال کی سمجھ نہیں آئی ، مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں اور یہی میں نے ان سے بھی کہا ۔

جس پر فیصل ایدھی نے کہا کہ آپ میرے پیغامات کا جواب نہیں دے رہی تھیں لہٰذا مجھے لگا کہ آپ ناراض ہیں۔ فیصل ایدھی کی بات سُن کر میں نے کہا کہ میرے پاس موبائل میں بیلنس موجود نہیں تھا اور ویسے بھی مجھ سے میسجنگ نہیں ہوتی۔ فیصل ایدھی نے مجھے موبائل بیلنس بھیجنے کی پیشکش کی
جس سے میں نے نہایت عاجزانہ انداز میں انکار کر دیا۔

جس پر فیصل ایدھی نے کہا کہ دوست ہی دوست کے کام آتا ہے ، کیا ہم دوست نہیں ہیں؟ میں نے ان سے معذرت کی اور کہاکہ مجھے کام پر جانا ہے جس کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔
اُس وقت بھی مجھے فیصل ایدھی کے غیر مناسب رویے کا اندازہ نہیں ہوا۔ اُس رات فیصل ایدھی نے مجھے رات 3 بجے فون کیا ، چونکہ میں بہت تھک گئی تھی لہٰذا میں نے فون نہیں اُٹھایا۔

اگلے دن فیصل ایدھی نے دوبارہ کال کی اور ملاقات کا کہا۔میں نے ان کو بتایا کہ میں اس ہفتے کافی مصروف ہوں جس پر فیصل ایدھی نے مجھے بتایا کہ میں آج رات لندن جا رہا ہوں اور اگر ہم آج نہ ملے تو اگلے کئی دن ملاقات نہیں ہو سکے گی اور پارٹی کا کام ادھورا رہ جائے گا جس پپر میں نے ان سے کہا کہ پارٹی کا کام رُک سکتا ہے۔
اور پھر فون بند کر دیا۔

دو راتوں کے بعد فیصل ایدھی نے مجھے رات ڈھائی بجے فون کیا،میں نے فون نہیں اُٹھایا تو فیصل ایدھی نے مجھے میسج بھیجا کہ ضروری بات ہے اور پارٹی سے متعلق ہی بات کرنی ہے۔
جس کے بعد انہوں نے دوبارہ فون کیا اور میں نے ان کا فون اُٹھا لیا۔ فون پر فیصل ایدھی نے کہا میں لندن میں ہوں اور میں وہاں سے آپ کو فون کر رہا ہوں کیونکہ عروج آپ ایک خاص لڑکی ہیں۔

جس پر میں ہڑ بڑا کر اُٹھی اورفیصل ایدھی سے دوبارہ دریافت کیا۔
فیصل ایدھی نے اپنے وہی الفاظ دوہرائے ، میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ فیصل ایدھی نے مجھے کہا کہ اگر میں نے ان سے دوستی نہ کی تو پارٹی فندنگ کا کام بھی معطل ہو جائے گا ، یہ سُن کر میں نے فون بند کیا۔
عروج ضیاء کا کہنا ہے کہ اُس وقت فیصل ایدھی شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی تھے۔

فیصل ایدھی نے اُس رات مجھے تب تک فون کیا جب تک میں نے اپنا فون بند نہیں کر دیا۔ عبد الستار ایدھی کے بیٹے کے منہ سے یہ الفاظ سُن کر میں خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد نہ تو میں نے کبھی فیصل ایدھی کا فون اُٹھایا اور نہ ان سے کبھی ملاقات کی اور نہ ہی پارٹی کو اس کے بعد کوئی فنڈ ملا۔
تنگ آ کر میں نے اپنا نمبر بدل لیا۔ کافی سال میں خود کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی کہ شاید مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو گی۔
عروج ضیاء نے کہا کہ میں نے یہ سب کسی کو نہیں بتایا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ ایدھی صاحب کے بیٹے ہیں اور کوئی میری بات پر یقین نہیں کرے گا۔