مشرف عدالتوں کے حکم سے باہر نہیں گئے، انہیں ملک سے بھیجنے کافیصلہ اس وقت کی حکومت نے کیا تھا. چیف جسٹس

سابق صدر مشرف کے مرض کو صیغہ راز میں رکھیں،وکیل کی درخواست‘ اس مرض کے مریض پاکستان میں بھی ہیں. سپریم کورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اکتوبر 16:56

مشرف عدالتوں کے حکم سے باہر نہیں گئے، انہیں ملک سے بھیجنے کافیصلہ اس ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 11 اکتوبر۔2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ سابق صدرپرویز مشرف کو پاکستان آنے دیں، کوئی گرفتار نہیں کرے گا اور جب علاج کے لیے باہر جانا ہو چلے جائیں. سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے اپنے موکل کی وطن واپسی سے متعلق جواب جمع کرایا.

جواب میں وکیل اخترشاہ نے عدالت سے گزارش کی کہ سابق صدر مشرف کے مرض کو صیغہ راز میں رکھیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس مرض کے مریض پاکستان میں بھی ہیں. وکیل اختر شاہ نے کہا کہ اگر مشرف کا آنا ضروری ہے تو انہیں ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جائے اور ان کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے.

(جاری ہے)

دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف غداری کیس میں 342 کا بیان ریکارڈ کرائیں، ای سی ایل سے نام ہٹانے کا نہیں کہہ سکتا، ویسے دبئی علاج کے لئے کوئی اچھی جگہ نہیں ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بہت اچھے ڈاکٹر ہیں، جس پروکیل اختر شاہ نے کہا کہ مشرف حکومت پاکستان کی اجازت سے باہر گئے ہیں. جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم دوبارہ کہہ رہے ہیں مشرف کو اجازت ہم نے نہیں دی، ہم کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے، پرویز مشرف آئیں بیان ریکارڈ کرائیں اور جب علاج کے لیے باہر جانا ہو چلے جائیں. چیف جسٹس نے کہا واضح کردوں مشرف عدالتوں کے حکم سے باہر نہیں گئے، مشرف کو ملک سے بھیجنے کافیصلہ اس وقت کی حکومت نے کیا، مشرف آئندہ پیرکوآجائیں کوئی گرفتار نہیں کرے گا.

مشرف کے وکیل کی جانب سے سابق صدر کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی اور درخواست کی کہ رپورٹ کو عام نہ کیا جائے. جسٹس ثاقب نثار نے قراردیا کہ مشرف واپس آکرنام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دیں تو وکیل نے کہا مشرف کا نام ای سی ایل میں ایک عدالتی حکم پر دیا گیا. وکیل نے دلائل میں کہا آرٹیکل 6سمیت دیگر مقدمات بھی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف حکومت کی اجازت سے بیرون ملک علاج کے لیے گئے.

چیف جسٹس نے کہا واضح کر دوں مشرف عدالتوں کے حکم سے باہر نہیں گئے، مشرف کو ملک سے بھیجنے کافیصلہ اس وقت کی حکومت نے کیا. وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پرویزمشرف کے خلاف بہت سے مقدمات ہیں، بنیادی حقوق تو مقدمات کی صورت میں ختم نہیں ہوتے، اگربنیادی حقوق ملتے تو ڈیڑھ 2سال مشرف باہر نہ رہتے. چیف جسٹس نے کہا مشرف صرف ایک کیس میں مفرور ہیں، پرویزمشرف صاحب واپس آ جائیں، آرٹیکل 6کامقدمے مدنظر رکھ کر حکم جاری نہ کرنے کاکہہ دیں گے اور کیا گنجائش درکار ہے. وکیل نے کہا کہ جن لوگوں نے این آر او میں حصہ لیا ان کے کیخلاف بھی کارروائی کی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا مشرف واپس آئیں ممکن ہے علاج کے لیے باہرجانے کی اجازت مل جائیں.