کلر سیداں ،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں تدریسی اسٹاف کی کمی کے باعث مسائل میں اضافہ

جمعرات اکتوبر 17:53

کلر سیداں ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین کلر سیداں میں تدریسی اسٹاف کی شدید قلت سمیت دیگر مسائل میں اضافہ کے باعث کالج کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔ بارہ سو طالبات کے مقابلے میں صرف آٹھ اساتذہ درس و تدریس کے فرائض سر انجام دینے پر مامورہیں۔ اساتذہ نے کالج کے مسائل کے بارے میں ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ کالج میں اس وقت طالبات کی تعداد بارہ سو کے قریب ہے جن کی تعلیم پر صرف آٹھ ٹیچرز مامور ہیں۔

کالج میں اسلامیات کی ٹیچر جبکہ ایجوکیشن اور ہسٹری کی آسامیاں ہی موجود نہیں۔ایک مضامین کیلئے دو خواتین اساتذہ کا ہونا ضروری ہے مگر یہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ایک کلاس میں طالبات کی ساڑھے چار سو کی تعداد پر صرف ایک فزکس ٹیچر اپنے تدریسی فرائض سر انجام دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

پانچ سو سے چھ سو تک کی تعداد میں طالبات کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں جن کیلئے مستقل ٹیچر کی آسامی ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پر ایک نجی ٹیچر کو کمپیوٹر کی تعلیم کیلئے مستعار کیا گیا ہے۔

کالج میں انٹر کی سطح پر تو تدریسی سٹاف موجود ہے مگر ڈگری کی سطح پر تدریسی اسٹاف کی آسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے کالج کے نتائج بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔اساتذہ اور طلبہ نے وزیر تعلیم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین کلر سیداں کے مسائل کے حل کے لئے اقدمات اٹھائے جائیں