وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا

پنجاب کابینہ کے اجلاس ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوں گے،عثمان بزدار سالانہ ترقیاتی پروگرام تحریک انصاف کے منشور کا آئینہ دار ، متوازن اور یکساں ترقی کا عکاس ہوگا‘ نوجوان تحریک انصاف کا ہراول دستہ ہیں،نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جائیگی‘ جنوبی پنجاب اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے عوام کو ان کا حق دیں گے، پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائیگا‘ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے اراکین اسمبلی سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا،وزیراعلیٰ

جمعرات اکتوبر 22:46

وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترجیحات کا ..
لاہور۔11 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میںاعلی سطح کااجلاس ہوا، 3 گھنٹے طویل اجلاس میں رواں مالی سال کے 8 ماہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سماجی شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائیگی، تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دیگر شعبوں کی پائیدار ترقی ہماری ترجیحات ہیں اور ان شعبوں کیلئے حقیقت پسندانہ ترقیاتی پروگرام بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام تحریک انصاف کے منشور کا آئینہ دار ، متوازن اور یکساں ترقی کا عکاس ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے صوبے کے عوام کی خوشحالی کیلئے ترجیحات کا تعین کر لیا ہے، ایسا ترقیاتی پروگرام وضع کیا جا رہا ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جائیگی، انہوں نے کہا کہ نوجوان تحریک انصاف کا ہراول دستہ ہیں، ان کیلئے خصوصی پروگرام شروع کرنے کا جائزہ لیا جائے، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے عوام کو ان کا حق دیں گے، پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائیگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے اراکین اسمبلی سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہیگا اور کابینہ کے اجلاس ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوں گے، اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کی ترجیحات کے بارے میں بریفنگ دی گئی، صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔