متعدد قتل کے مقدمات میں ملوث لیگی رکن اسمبلی عابد رضا کو بری کر دیا گیا

1999 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 6 افراد کے قتل میں عابد رضا کو سنائی گئی سزائے موت لاہور ہائیکورٹ نے ختم کر دی

muhammad ali محمد علی جمعرات اکتوبر 20:26

متعدد قتل کے مقدمات میں ملوث لیگی رکن اسمبلی عابد رضا کو بری کر دیا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) متعدد قتل کے مقدمات میں ملوث لیگی رکن اسمبلی عابد رضا کو بری کر دیا گیا، 1999 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 6 افراد کے قتل میں عابد رضا کو سنائی گئی سزائے موت لاہور ہائیکورٹ نے ختم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز لاہور ہائیکورٹ نے 6 افراد کے قتل اور دہشت گردی کے مقدے میں سزائے موت کے مجرم مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا اور ان کے 3 ساتھیوں کو بری کر دیا۔

عابد رضا اور ان کے ساتھیوں نے انسداد دہشتگردی عدالت گجرات کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار محمد شمیم خان اور جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ ذاتی دشمنی کا مقدمہ تھا جس میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں۔

(جاری ہے)

کیس کے عدالتی معاون عثمان نسیم ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دو کانسٹیبلوں کے قتل پر دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں کیونکہ یہ دونوں کانسٹیبل وقوعہ کے وقت سرکاری یا آفیشل ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

عدالتی معاون عثمان نسیم ایڈووکیٹ نے موقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کی بھی تازہ عدالتی نظیر آ چکی ہے جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر پولیس اہلکار اپنی سرکاری ڈیوٹی کے علاوہ کسی حادثے یا وقوعہ میں جاں بحق ہوتا ہے تو اس میں دہشت گردی کی دفعات لاگو نہیں کی جا سکتیں۔ ملزمان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور احسن بہون نے دلائل دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس کیس کے پورے ٹرائل میں 1998ء سے لے کر آج تک دہشت گردی کی دفعات کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی جرح کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا کیس تھا اور ذاتی دشمنی کی حد تک تمام فریقین میں صلح ہو چکی ہے، اس لئے ملزموں کو بری کیا جائے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر خرم خان نے بنچ کو بتایا کہ ماضی میں ہائیکورٹ نے عابد رضا کو راضی نامے کی بنیاد پر بری کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے 2015ء میں عابد رضا کی بریت کا ازخود نوٹس لے کر کیس دوبارہ ہائی کورٹ کو ریمانڈ کیا۔ سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کے تحت دہشت گردی کے مقدمے میں راضی نامے کی کوئی حیثیت نہیں، ہائیکورٹ سے مجرم کی بریت قتل کی دفعات کے تحت ہوئی تھی لیکن ہائیکورٹ نے مقدمے میں درج دہشت گردی دفعات سے متعلق فیصلہ نہیں سنایا تھا۔

اس کیس میں دو کانسٹیبل قتل ہوئے ہیں لہٰذا دہشت گردی کی دفعات برقرار رکھ کر ملزموں کی اپیلیں خارج کی جائیں۔ دلائل سننے کے بعد دو رکنی بنچ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے لیگی ایم این اے عابد رضا اور ان کے تین ساتھیوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ تھانہ سول لائنزگجرات میں عابد رضا کے خلاف 2 پولیس کانسٹیبلوں سمیت چھ افراد کو قتل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا اور ٹرائل عدالت نے 1999ء میں عابد رضا سمیت شریک مجرمان کومجموعی طور پر چھ چھ مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔