پاکستان کے مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، اس کی حفاطت کے لئے خون کے آخری قطرے تک بہائیں گے،

اسلام آباد پولیس کو مثالی پولیس بنایا جائے گا، پولیس کو درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے، اسلام آباد میں بھی کے پی کے کی طرز پر نیا پولیس ایکٹ لاگو کریں گے، ہم شہیدوں کی بیٹیاں، بیویاں، والدین اور نیشنل سیکورٹی ملازمین اور بہادر جوانوں کو ایسی عزت دیں گے کہ آئندہ نسلیں بھی اس پر فخر کریں گی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کاپولیس دربار سے خطاب

جمعرات اکتوبر 23:14

پاکستان کے مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، اس کی حفاطت کے لئے خون ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، اس کی حفاطت کے لئے خون کے آخری قطرے تک بہائیں گے، اسلام آباد پولیس کو مثالی پولیس بنایا جائے گا، پولیس کو درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ ایسا خالق ہے جس کی بادشاہی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 27 رمضان کو بنایا گیا ہے، پاکستان ریاست مدینہ کے بعد پہلی ریاست ہے جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے نام پر بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار جن کی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر میں ادھر آیا ہوں، اسلام آباد پولیس کو ایسی ماڈل پولیس بنانا چاہتے ہیں جس پر تمام ملکی ادارے فخر کریں، آپ کو ہر سہولت فراہم کی جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے پولیس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس ضمن میں پولیس ملازمین کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم ڈو مور نہیں سن سکتے، ہم اپنے اداروں کو مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے دور میں میں ہندوستان کے دورے پر گیا تو وہاں کے پولیس ملازمین نے بتایا کہ پاکستان پولیس ایکٹ ہندوستان کے پولیس ایکٹ سے بہتر ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی کے پی کے کی طرز پر نیا پولیس ایکٹ لاگو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہیدوں کی بیٹیاں، بیویاں، والدین اور نیشنل سیکورٹی ملازمین اور بہادر جوانوں کو ایسی عزت دیں گے کہ آئندہ نسلیں بھی اس پر فخر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے پولیس ملازمین کے جو مسائل بیان کئے ہیں ان پر غور کیا جائے گا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پولیس تھانوں میں میرے اچانک دوروں کا مقصد صرف آپ کی دیکھ بھال ہے، والدین بھی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اگر بیٹا گھر سے باہر ہو تو ماں بھی اس کا خیال رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ماں ہے اور ہمیں اس کو عزت دینی چاہیے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ جو اللہ اور اس کے محبوب ؐ کو نہیں مانتے لیکن دنیا میں عزت کے مقام پر پہنچ گئے ہیں وہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی عزت بھی کرتے ہیں لیکن یہاں پر اللہ اور اس کے نبی ؐ کو ماننے والے میرے ملک میں لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے، حق کو نا حق کا فرق ختم ہو گیا ہے، ضرورتمند کی تذلیل ہو رہی ہے، اپنوں کو غیر بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں کو عزت نہیں دیں گے تو اقوام عالم بھی عزت نہیں دے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ تھانے میں بیٹھ کر کسی کی تذلیل کریں تو ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری بھی اولاد ہے، نئے پاکستان میں اب کسی پاکستانی کی تذلیل نہیں ہو گی۔ انہوں نے پولیس ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 22 کروڑ 80 لاکھ لوگوں میں سے اللہ نے آپ کو لوگوں کی وفاقی پولیس کے لئے منتخب کیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اب پاکستان کے مفادات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، اس کی حفاظت کے لئے خون کے آخری قطرے تک بہائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ اور پاکستانیوں کو جوابدہ ہوں، شہریار آفریدی نے کہا کہ آج ہمیں باہر کی قومیں بتاتیں ہیں کہ ماں، باپ، ہمسائے اور خواتین کے حقوق کیا ہیں، یہ تو ہمارا خاصا تھا، اگر ان قوانین کی پاسداری نہ کریں تو جگ ہنسائی ہوتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں گھومنے والی کرسیوں پر بیٹھ کر فیصلے کریں، جب تک ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے اور آپ کے مسائل نہیں سنیں گے تو آپ کے مسائل کے حل کا پتہ نہیں چلے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں 1800 کیمرے نصب کئے گئے تھے جن میں سے 600 کیمرے خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا جوان ڈیوٹی سے پہلے دو گھنٹے روڈ پر کھڑا ہوتا ہے، ان کو ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ آفیسرز تعیناتی کے دو تین ماہ میں اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی جاتی ہے، جب وہ کام سمجھتے ہیں تو ان کو ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سب کچھ پتہ ہے، ہم آپ کو عزت دینا چاہتے ہیں، پولیس کو بطور ادارہ ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں آفیسرز اور جوانوں کو شہداء پیکج اور تنخواہیں بڑھائی جائیں گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ میں نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو کہا ہے کہ مجھے ایک پیج بریف دیا جائے، میں اسے کابینہ کے اجلاس میں پیش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہدے وقتی ہیں اور ہمیشہ نہیں رہتے، اللہ سب کو ہر ایک وقت دیتا ہے جس نے حلال کا لقمہ کھایا اس کی قبر اور گھر ہمیشہ آباد رہتے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ بطور پاکستانی ایک عرض ہے کہ ہمیشہ عاجزی سے کام لینا چاہیے اور اللہ کی مخلوق کو بغیر فرقے اور بغیر مذہب کے عزت دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گناہ سے نفرت کرنی چاہیے، گناہگار سے نہیں، انسان کو عزت دینی چاہیے، جب ہم انسان کو عزت دیں گے پھر امریکہ اور یورپ کی مثالیں کوئی نہیں دیگا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین ہستی خاتم النبیینؐ ہیں، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے پولیس ملازمین سے کہا کہ دوران ڈیوٹی کسی سے ڈریں نہیں، سب کی عزت کریں، آپ کی عزت ہو گی، آپ کی عزت ہو گی تو ادارے کی عزت ہو گی۔