این اے 53، تحریک انصاف کا پلڑا بھاری

سروے کے مطابق 68 فیصد عوام کی ہمدردیاں تحریک انصاف جب کہ 28 فیصد کی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات اکتوبر 21:26

این اے 53، تحریک انصاف کا پلڑا بھاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 اکتوبر 2018ء) :وزیر اعظم کی چھوڑی ہوئی نشست این اے 53 پر تحریک انصاف کی گرفت مضبوط، سروے کے مطابق 68 فیصد ووٹر کی سیاسی ہمدردیاں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے لاہور ،،اسلام آباد،، بنوں اور میانوالی سمیت 5 حلقوں سے الیکشن لڑا۔۔عمران خان نے این اے 53،، 35، 243، 95 اور 131 سے انتخاب میں حصہ لیا۔

عمران خان کی سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن حلقہ این اے 95میانوالی میں نظر آئی جہاں انہوں نے اپنے مخالف لیگی امیدوار کو بھاری مارجن سے شکست دی۔ اسی طرح این اے 53 میں بھی انکا مقابلہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سسے ہوا جہاں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو عمران خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

تاہم این اے 35 بنوں جہاں عمران خان کا مقابلہ اکرم درانی سے ہوا وہاں بھی فتح نے عمران خان کے قدم چومے اور کراچی کا حلقہ این اے 243 بھی عمران خان کے ہی نام رہا ۔

تاہم لاہور کا حلقہ این اے 131 عمران خان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا جہاں انکا مقابلہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سے ہوا۔اس علاقے میں کافی دلچسپ اور ٹف مقابلہ دیکھنے میں آیا تاہم عمران خان انتہائی قریب مقابلے کے بعد 6 سو ووٹوں سے اس حلقے سے فتح سمیٹنے میں کامیاب ہوگئے۔گو کہ خواجہ سعد رفیق نے اس انتخاب کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور دوبارہ گنتی کے لیے ہر فورم پر گئے لیکن بالآخر انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

یوں عمران خان نے ایک ہی ساتھ پانچ حلقوں میں انتخابات جیتنے کا ریکارڈ بنا ڈالا۔تاہم کپتان نے میانوالی والی نشست اپنے پاس رکھتے ہوئے باقی نشستوں پر 14 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے۔نجی ٹی وی کے سروے کے مطابق این اے 53 پر مسلم لیگ ن کی بجائے تحریک انصاف کی گرفت مضبوط ہے۔سروے کے مطابق 68 فیصد لوگوں کی سیایس ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں جبکہ 28 فیصد تاحال مسلم لیگ ن کی حمایت کررہے ہیں۔علاوہ ازیں 4 فیصد سروے شرکا ایسے بھی ہیں جو کسی بڑی پارٹی کی بجائے چھوٹی سیاسی جماعتوں کو ترجیح دینا بہتر سمجھتے ہیں۔