سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کی گرفتاری کے بعد 3 اہم شخصیات کی گرفتاری متوقع

مجاہد کامران کے بعد اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے تین اہم افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اکتوبر 12:13

سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کی گرفتاری کے بعد 3 اہم ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 اکتوبر 2018ء) : گذشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کو نیب نے حراست میں لیا، مجاہد کامران کے ساتھ ساتھ 5 سابق رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو بھی گرفتار کر لیا۔ جس کے بعد اب مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے 3 اہم افراد کی گرفتاری کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اور 5 سابق رجسٹرار کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 3 اہم افراد کی گرفتاری بھی اس کیس میں متوقع ہے ۔

مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کو غیر قانونی بھرتیوں کے لیے احکامات دینے والی سیاسی شخصیات کو بھی نیب کی جانب سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی کی زمین پر بنے ہوئے شادی ہالز کس شخص کی سفارش پر کن افراد کو دئیے گئے ۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پنجاب حکومت کے ایک مشیر کانام سامنے آ رہا ہے جس نے مبینہ طور پر سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کے بیٹے کے ساتھ مل کر شادی ہال بنائے اور کروڑوں روپے ان دونوں کی جیبوں میں گئے ۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مجاہد کامران کی ملازمت میں دو مرتبہ توسیع کی اور اس کے عوض وہ لیگی حکومت کے لیے بھی کام کرتے رہے ۔دوسری توسیع شہباز شریف نے اس لئے کی کیونکہ ایک اہم سیاسی شخصیت شادی ہال، مارکیٹ، فوڈ سٹریٹ اور دکانیں بنانے کے لیے یونیورسٹی کی اراضی کو سوسالہ لیز پر لینا چاہتی تھی اور اس کے لیے مجاہد کامران نے بہت حد تک کام مکمل کر لیا تھا لیکن یونیورسٹی کی ایک سپیریئر کمیٹی کی مداخلت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

نیب کی حراست میں موجود سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران اور دیگر یونیورسٹی ملازمین سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سے کی جانے والی تفتیش کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔