سپریم جوڈیشل کونسل کا چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا فیصلہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس انور کاسی کو مس کنڈکٹ کے الزامات سے بری کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اکتوبر 13:26

سپریم جوڈیشل کونسل کا چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 اکتوبر 2018ء) : سپریم جوڈیشل کونسل نے چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا فیصلہ کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس انور کاسی کو مس کنڈکٹ کے الزامات سے بری کر دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف چار درخواستیں مسترد کیں۔ تمام شکایات مس کنڈکٹ سے متعلق تھیں۔

کونسل نے 11 اکتوبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف درخواستوں کا جائزہ لیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا کہنا ہے کہ مس کنڈکٹ کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ مس کنڈکٹ کے شواہد فراہم نہ کرنے پر چار ریفرنسز خارج کر دئے۔یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا چوبیس گھنٹوں میں دوسرا بڑا فیصلہ ہے ۔ اس سے قبل گذشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کے حوالے سے فیصلہ دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

(جاری ہے)

سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوائی گئی جس کی انہوں نے منظوری دے دی ۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی کے آخری ہفتے میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ اور اداروں پر الزامات عائد کیے تھے۔

جس پرجسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں میں انکوائری کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔جسٹس شوکت نے اپنی متنازعہ تقریر میں اداروں پرججوں پر من مانے فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالنے اورمن پسند ججز کی مختلف کیسز میں نامزدگی کے لیے بھی دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ مختلف کیسز میں من پسند ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس بیان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا تھا۔