زینب قتل کیس ، مجرم عمران علی کی رحم کی اپیل مسترد، ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئے گئے

زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اکتوبر 13:34

زینب قتل کیس ، مجرم عمران علی کی رحم کی اپیل مسترد، ڈیتھ وارنٹ جاری ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 اکتوبر 2018ء) : زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کی رحم کی اپیل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مسترد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق مجرم عمران علی کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئے گئے۔عمران علی کو 17 اکتوبر کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ مجرم عمران علی کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مجرم عمران علی کے ڈیتھ وارنٹ انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج سیخ سجاد نے جاری کیے۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرم عمران علی کے ڈیتھ وارنٹ سیشن جج لاہور کو بھجوا دئے ہیں۔ واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 17 فروری کو زینب کیس کا فیصلہ سنایا۔ کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت جے جج جسٹس سجاد احمد نے زینب قتل کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

عدالت نے عمران علی کو مجرم قرار دیتے ہوئے 4 مرتبہ سزائے موت ، عمر قید اور20 لاکھ روپے جُرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران علی کو زینب کو اغوا کرنے، زینب سے جنسی زیادتی کرنے ، زینب کو قتل کرنے اور 7 اے ٹی اے کے تحت 4 مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا، زینب کے ساتھ بد فعلی کرنے پر عمران علی کو عمر قید اور25 لاکھ روپے جرمانہ اور جبکہ زینب کی لاش کو گندگی کے ڈھیر میں پھینکنے اور بے حُرمتی پر عمران علی کو 7 سال قید کی سزا اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

یاد رہے کہ قصور میں رواں سال کے آغاز میں ہی ننھی زینب کو اغوا کرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ زینب کی لاش 9 جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کے معاملے پر 10 جنوری کو از خود نوٹس لیا۔ 21 جنوری کو چیف جسٹس نے اس کیس کی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی جس دوران انہوں نے کیس میں ہوئی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور تفتیشی اداروں کو تحقیقات کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت دے دی۔

مہلت ملنے کے 48 گھنٹوں بعد ہی پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل کیس میں ملوث ملزم عمران کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جس کا اعلان بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کیا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ جمع کروانے پر اس کیس کو نمٹا دیا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کو حکم دیا کہ 7 روز کے اندر ملزم کا ٹرائل ختم کیا جائے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ 96 گھنٹے میں کسی ملزم کا ٹرائل مکمل ہوا۔ پراسیکیوشن نے 56 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے اور ملزم عمران کا بیان ضابطہ فوجداری 302 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ ملزم عمران کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد میں پیش کیا گیا۔ 2 فروری کو زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی پر کوٹ لکھپت جیل میں ہی 12 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی۔

کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے استغاثہ کے گواہوں نے شہادتیں قلمبند ہونے کے بعد ملزم عمران پر فرد جُرم عائد کی۔ اور پراسیکیوشن کی جانب سے تمام 25 گواہوں کوبھی طلب کیا گیا۔ زینب قتل کیس کا فیصلہ 15 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 17 فروری کو عدالت نے عمران علی کو مجرم قرار دیتے ہوئے 4 مرتبہ سزائے موت ، عمر قید اور20 لاکھ روپے جُرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ مجرم عمران علی نے صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ۔ رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد عدالت نے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے جس کے تحت مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔