فواد چودھری کا ڈی پی او پاکپتن کیس میں وزیراعلیٰ کا دفاع

کسی بدتمیز ڈی پی او کا تبادلہ کرنا وزیراعلیٰ کا حق ہے، کسی فیملی سے بدتمیزی کرنے والے ڈی پی او سے معافی کا مطالبہ غلط نہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کی خصوصی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ اکتوبر 16:20

فواد چودھری کا ڈی پی او پاکپتن کیس میں وزیراعلیٰ کا دفاع
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اکتوبر 2018ء) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری ڈی پی او پاکپتن کیس میں وزیراعلیٰ کے دفاع میں کھل کر سامنے آگئے، انہوں نے کہا کہ کسی ڈی پی او کا تبادلہ کرنا وزیراعلیٰ کا حق ہے،کسی فیملی سے بدتمیزی کرنے والے ڈی پی او سے معافی کا مطالبہ غلط نہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ڈی پی او کسی فیملی سے بدتمیزی کرے تواس کا تبادلہ کرنا وزیراعلیٰ پنجاب کا حق ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ کسی فیملی سے بدتمیزی کرنے والے ڈی پی او سے معافی کا مطالبہ غلط نہیں۔ واضح رہے مانیکا فیملی سے بدتمیزی کے الزام میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈی پی اوپاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے رات گئے آئی جی پولیس پنجاب کو حکم دیا کہ ڈی پی او مانیکا فیملی سے بدتمیزی کرنے پر معافی مانگے اس کے برعکس اس کا تبادلہ کر دیا جائے۔

(جاری ہے)

جس پر آئی جی نے رات کو ہی ڈی پی او کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ ڈی پی او کا اس طرح اچانک تبادلہ کرنے سے سوشل میڈیا سمیت عوام میں شدید تشویش پائی گئی کہ ایک ایسی حکومت جو پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی بات کرتی تھی جبکہ اب بشریٰ بی بی کے کہنے پر ڈی پی او کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ یہ تو کھلم کھلی سیاسی مداخلت ہے۔ دوسری جانب عوام کے آواز اٹھانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور مانیکا فیملی سمیت سابق آئی جی پنجاب کلیم امام ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر لوگ جو اس معاملے میں شامل تھے سب کو عدالت میں طلب کرلیا۔

تاہم عدالت کے حکم پر وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب نے معافی نامہ بھی جمع کروایا۔ تاہم اب فواد چودھری ڈی پی او کے معاملے میں وزیراعلیٰ کے حق میں میدان میں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ڈی پی او کا تبادلہ کرنا وزیراعلیٰ کا حق ہے،کسی فیملی سے بدتمیزی کرنے والے ڈی پی او سے معافی کا مطالبہ غلط نہیں۔