عالمی تجارت اور ترقی کے فروغ کے لیے امن ناگزیر ہے ،ْشاہ محمود قریشی

پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،ْوزیر خارجہ دہشت گردی اورعلاقائی تنازعات اہم چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے ،ْدہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستان کے تجربے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے

جمعہ اکتوبر 18:44

عالمی تجارت اور ترقی کے فروغ کے لیے امن ناگزیر ہے ،ْشاہ محمود قریشی
دوشنبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2018ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی تجارت اور ترقی کے فروغ کے لیے امن ناگزیر ہے اور پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،ْدہشت گردی اورعلاقائی تنازعات اہم چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے ،ْدہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستان کے تجربے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ،ْامن، ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے ،ْپاک ،ْ چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو بڑے ثمرات حاصل ہوں گے۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان حکومت کی کونسل کے 17ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی اورعلاقائی تنازعات اہم چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے ،ْدہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستان کے تجربے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں قیام امن کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے ناصرف دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ باہمی تجارت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے امن، ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی تجارت اور ترقی کے فروغ کے لیے امن ناگزیر ہے اور پاکستان، تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں باہمی فائدے کے بڑے مواقع موجود ہیں، موجودہ حکومت کا معاشی ایجنڈا پاکستانی عوام سمیت خطے کیلئے بھی فائدہ مند ہے ،ْپاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو بڑے ثمرات حاصل ہوں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جیسے ہم نئے پاکستان کا سفر شروع کر رہے ہیں ،ْہم رکن ملک کی حیثیت سے اپنے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لئے پہلے سے بڑھ کر کردار ادا کریں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی اختلافات دہشت گردی بڑے چیلنجز ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اپنی بندرگاہوں اور شاہراہوں کے ذریعے وسطی ایشیا کو مختصر ترین راستے کی صورت میں سمندر تک رسائی دینے کیلئے پرعزم ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں پہلے کی طرح پھر تجارت، نقل و حمل اور توانائی تعاون کے سلسلے میں شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کاریڈور کے قیام کی اہمیت پر زور دوں گا۔